مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 166 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 166

166 احمدیت اور جلال الدین سیوطی مجدد کا اصل کام تو پیدا شدہ فتنوں کا استیصال ہوتا ہے لیکن بعض اوقات خدا تعالیٰ ان کے منہ سے ایسے اقوال یا تحریرات بہم پہنچا دیتا ہے جو آئندہ فتنوں کوحل کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ختم نبوت کی جو تشریح کی اس پر مخالفین کی طرف سے طوفان بدتمیزی اُٹھا۔لیکن حضرت جلال الدین سیوطی صاحب نے اپنی تفسیر در منثور میں حضرت عائشہ کا قول اس وقت ہی درج کر دیا جب کہ ابھی احمدیت کا وجود بھی نہ تھا تا کہ بچوں کے حق میں یہ دلیل ٹھہرے۔خدا انہیں اس کار خیر کی جزاء عطا کرے۔وہ قول یہ ہے:۔وأخرج ابن ابى شيبة عن عائشة رضى الله عنها قالت قولو خاتم النبين ولاتقولوا لانبی بعدہ“۔فرمایا تم خاتم النبین تو کہا کر ولیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔دوسرا بڑا اختلافی مسئلہ مثیل مسیح کے دعوے کے بارے میں ہے۔امام صاحب نے اپنی کتب میں اس کا حل بھی کر دیا ہے اور اس کا تذکرہ خود مسیح موعود علیہ السلام نے یوں کیا ہے:۔امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ بعض مقامات منازل سلوک ایسے ہیں کہ وہاں اکثر بندگان خدا پہنچ کر مسیح و مہدی بن جاتے ہیں بعض ان کے ہمرنگ ہو جاتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بروز محمد یا مثیل مسیح کا جو دعوی کیا ہے تو یہ کوئی اچنبہ نہیں ہے۔گزشتہ صدیوں کے اہل علم حضرات اس بارہ میں لب کشائی فرما چکے ہیں۔اس صدی کے دوسرے مجددین میں محمد بن عبد الرحمن سخاوی ، سید محمد جون پوری مہدی قریشی ہیں اور بعض نے امیر تیمور کو بھی مجد دلکھا ہے۔