مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 158
158 ہے۔آپ خواہ زمانہ طالبعلمی میں ہوں یا قاضی القضاۃ کے عہدے پر یا بستر علالت پر ، ہر حال میں خدمت اسلام کا عظیم مقصد اپنے سامنے رکھتے تھے اور زبان اور قلم سے دوسروں کو منور کرنے کا اہم فریضہ سرانجام دیتے رہے۔آپ کی کتب کی تعداد پانچ صد کے قریب بیان کی جاتی ہے (لیکن مرورِ زمانہ، قلت وسائل کے باعث ان میں سے کئی کتب اب منظر عام پر نہیں )۔اس سلسلہ میں پہلا نام فتح الباری“ کا ہے جو ”صحیح بخاری کی شرح ہے۔سنت و حدیث کے احیاء کے سلسلہ میں آپ کا یہ قدم نہایت بر وقت اور مفید تھا۔آپ نے ایسی بسیط شرح لکھی کہ اس سے قبل ایسی شرح موجود نہ تھی۔اس کے ذریعہ عوام الناس کو حدیث کے گہرے مطالب سمجھنے میں آسانی پیدا ہوئی۔اس کتاب کے شروع میں آپ نے پہلے مقدمہ بھی لکھا جس میں آپ نے حدیث کو حل کرنے کے اصول وقواعد بتائے۔اس لحاظ سے ہر خاص و عام کیلئے یہ کتاب مفید بن گئی۔اس کتاب میں آپ نے جو تر تیب قائم کی ہے وہ بے نظیر ہے۔آپ کی دوسری بڑی تصنیفی خدمت ” بلوغ المرام ہے۔اس میں آپ نے فقہی مسائل کے ماخذ احادیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں اور چاروں مسالک میں بلا تمیز اور بغیر تعصب کے جس مسئلہ میں جو حدیث موزوں نظر آئی بیان کر دی اور کسی مسلک کی طرفداری یا مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور یہی مجدد کی شان تھی۔لوگوں نے آپ کو شہاب الدین کا لقب دیا۔آپ نے واقعی شہاب کی طرح روشنی مخلوق خدا کو عطا کی۔تصانیف آپ کی کتب کی تعداد تو پانچ صد کے لگ بھگ ہے۔چند مشہور کا تذکرہ کیا جاچکا ہے۔چند مزید کتب کے اسماء درج ذیل ہیں۔2 اتباع الاثر في رحلة ابن حجر 1 احاديث الأحكام 3 الاتقان فی فضائل القرآن 4 اسباب النزول 5اربعين ابن حجر 6 بذل المامون 7 منبهات ابن حجر 8 تهذيب التهذيب۔تقريب التهذيب وغيره اس کے علاوہ علم الہیات، علم حدیث ، فقہ، اصول فقہ، لغت، قرآت، تاریخ وغیرہ علوم پر آپ کی کتب ملتی ہیں۔2