مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 157
157 مسلمانوں کی حالت مجد داسی وقت آتا ہے جب اُمت میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور مجد د کا کام اس بگاڑ کی اصلاح کرنا ہوتا ہے۔حافظ ابن حجر کے وقت میں مسلمانوں پر روحانی زوال کا دور تھا۔بغداد ہو کہ اندلس ، ایران ہو کہ فلسطین یا مصر ہر طرف مذہبی اور اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا۔مسلمان بادشاہوں کی حالت قابل رحم تھی۔اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کا جانشین او رخلیفتہ المسلمین کہلانے والے خلافت حقہ اسلامیہ کے جادہ مستقیم سے منحرف تھے۔ان کی حالت خلافت راشدہ سے یکسر متضاد و متبایں تھی۔جوان کے نزدیک بُرے کام تھے وہ یہاں محاسن میں شمار ہوتے تھے اور جن لوگوں کی وہاں تذلیل تھی اس قسم کا طبقہ یہاں محلات پر قابض تھا۔بادشاہوں کے درباروں میں زینت کا سامان، جادو بھری آواز والے گوئیے اور طلسماتی حسن رکھنے والی طوائفیں تھیں۔رقص وسرور اور ناچ گانے میں باشاہ سلامت اور ارباب حل عقد سارا دن مصروف رہتے۔ان کے خوشامدی انہیں غلط رپورٹیں دے کر خوش کرتے رہتے اور انہیں بیرونی حالت کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا۔یہ تو مسلمانوں کی اندرونی حالت تھی اور اس کے علاوہ باہر سے تا تاری فتنے برپا کر رہے تھے۔عیسائی پادری مسلمانوں پر چھا رہے تھے۔اسلام کے خلاف لٹریچر کی اشاعت زوروں پر تھی۔ایسی کتب تصنیف ہورہی تھیں جن میں اسلام اور بانی اسلام کے خلاف دیدہ دلیری سے اتہامات لگائے جاتے تھے۔۔۔اور مسلمانوں کو ایک ایسے قلب کی ضرورت تھی جو اسلام کی خاطر تڑپے اور نہ صرف تڑپے بلکہ اس کی یہ تڑپ عمل میں ڈھل سکے۔جو ایک طرف مسلمانوں کی لگا میں اصل اسلام کی طرف موڑے دوسری طرف کامیابی سے اسلام کا دفاع کرے۔غرض ایک صاحب قلم مجدد کی ضرورت تھی۔چنانچہ وقت کے تقاضوں کے مطابق حافظ ابن حجر عسقلانی مجدد ہوکر تشریف لائے اور عظیم تصنیفی کام سرانجام دیئے۔تجدیدی کارنامے جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے اس دور میں مسلمانوں کو علمی پستی سے نکالنے کی شدید ضرورت تھی۔اس لیے حافظ صاحب کا تجدیدی کام علمی نوعیت کا ہے اور زیادہ تر تدریس و تصانیف سے تعلق رکھتا