مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 128 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 128

تعلیمات 128 حقیقی نیکی اور حقیقی تصوف کی تعلیم دیتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:۔فقیر کون ہے۔بندہ پر فقیر کا لفظ اس وقت صادق آتا ہے کہ جب تک آٹھ سال تک بائیں ہاتھ کا فرشتہ جو بدی تحریر کرنے پر مامور ہے اس کے نامہ اعمال میں ایک بدی بھی تحریر نہ کرے۔پھر فرمایا: "عارف کے تین ارکان ہیبت تعظیم اور حیا ہیں۔ہیبت یہ ہے کہ اپنے معاصی پر شرمندہ ہو۔تعظیم سے مراد ہمیشہ اطاعت میں کوشاں رہے اور حیا یہ ہے کہ سوائے خدا کے کسی پر نظر نہ ڈالے۔اسی طرح مزید فرمایا :- ندی نالہ اور دریا کے پانی بہنے میں شور غل ہوتا ہے لیکن جب سمندر میں جا کر مل جاتے ہیں تو وہ آواز جاتی رہتی ہے۔اس پر سلوک کی منزلوں کا قیاس کر لینا چاہیے۔تجدیدی کارنامے آپ نے اشاعت دین کے سلسلے میں کئی سفر کیے۔آپ لاہور ، دہلی اور اجمیر تشریف لائے اور اجمیر میں آپ نے قیام فرمایا اور دعوت اسلام کا کام جاری رکھا۔لوگ جوق در جوق آپ کے ہاتھ پر جمع ہوتے گئے۔یہاں کے حاکم جس کا نام رائے پتھور تھا، نے آپ کی مخالفت پر کمر باندھی مگر جلد ہی شہاب الدین غوری نے ہند پر حملہ کیا اور فاتح نصیب جرنیل ہو کر ابھرا۔اس حملے میں رائے پتھو قتل ہوا۔یوں آپ کے راستے کی رکاوٹ اللہ تعالیٰ نے دور کر دی اور آپ کے راستوں میں موانعات اور مزاحمتوں کا خطرہ ٹل گیا۔2 آپ کے سفروں کے درمیان ایمان افروز واقعات رونما ہوتے تھے۔ہرات سے روانہ ہوکر جب آپ سبزوار آئے تو یہاں کا حاکم یاد گار علی تھا۔یہ بڑا ظالم، فاسق و فاجر تھا۔آپ ایک دن ایک باغ میں تلاوت فرمارہے تھے اتنے میں بادشاہ آیا، آپ محو تلاوت رہے۔اسے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ اس