مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 127 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 127

127 معین الدین محبوب خدا است و مرافخر است بر مریدی او معین الدین خدا کے محبوب ہیں اور مجھے ان کی مریدی پر فخر ہے۔لارڈ کرزن نے لکھا: - میں نے اپنی زندگی میں دو ایسے بزرگ دیکھے ہیں جو اپنی وفات کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر اس طرح حکمرانی کر رہے ہیں کہ جیسے بنفس نفیس ان کے درمیان موجود ہوں۔ان میں سے ایک تو مغلیہ حکمران اور نگ زیب عالمگیر ہے اور دوسرے خواجہ معین الدین اجمیری ریاضت بابا فرید آپ کی ریاضت کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں :- خواجہ ہند نے اپنی ریاضت کے ابتدائی زمانہ میں کچھ ایسے طریقے سے جہاد نفس کیا کہ لوگوں کو محو حیرت کر دیا اور ریاضت کا وہ طریقہ اختیار کیا کہ اس کی نظیر عارفان حقیقت کے زمرہ میں مشکل سے ملے گی۔آپ لگا تار سات سات دن تک روزہ رکھتے اور صرف پانچ مثقال کی ٹکیہ سے روزہ افطار کرتے“۔ے اخلاق حسنه آپ کے عہد میں حکمران طاقت کے نشے میں چور تھے۔اس لیے رعایا کا خیال نہ رکھتے اور مظلومین کی دادرسی نہ ہو سکتی۔مگر آپ اس امر کا اہتمام کرتے کہ جب بھی کوئی حاجتمند آپ کے پاس آکر اپنی بپتا بیان کرتا تو آپ حتی المقدور اس کی داد رسی فرماتے۔چنانچہ ایک کاشتکار نے آپ سے شکایت کی کہ فلاں حاکم نے میری زمین ضبط کر لی ہے۔اگر آپ شاہ التمش سے سفارش کر دیں تو میری زمین واپس مل سکتی ہے۔آپ اس کے ہمراہ اجمیر سے دہلی تشریف لائے اور التمش کو فرمایا اس کی زمین واپس دلائی جائے۔شاہ نے آپ کی بڑی عزت افزائی کی اور آپ کی سفارش منظور کر لی۔اس واقعہ سے اندازہ کریں کہ مخلوق خدا کی ہمدردی کا جذبہ کس حد تک آپ کے دل میں موجزن تھا۔