مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 87
87 یہ اہل الا ہواء کا رڈ کرتا ہے۔عضد اللہ کے دربار میں آپ کی علمیت اور مناظروں کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔اسی بادشاہ نے آپ کو شاہ روم کے پاس سفیر بنا کر بھیجا۔چنانچہ قسطنطنیہ میں شاہ باسیلیوس ثانی کے دربار میں پادریوں سے آپ کے متعدد کامیاب مناظرے ہوئے۔۵ آپ نے عقائد ایمانیہ کیلئے دلائل عقلیہ کے انبار لگا دیے۔اس طریق استدلال کو اوجِ کمال تک پہنچایا۔اس کام سے دینی و نظری علوم کو تقویت پہنچی۔آپ نے مسئلہ بقا میں الاشعری سے اختلاف کیا۔باقلانی کے نزدیک بقاذات باری سے الگ صفت قرار نہیں دی جاسکتی۔معتزلہ نے آپ کو پس پشت ڈال دیا تھا اور وہ اعجاز قرآن کے منکر ہورہے تھے۔آپ نے اس کے رد میں فرمایا کہ قرآن تو معجزوں سے بھرا پڑا ہے۔اسلوب قرآن بھی معجزہ ہے اور کوئی کتاب نہیں جو بلاغت، لطافت معانی فوائد جلیلہ اور حکم کثیرہ میں قرآن کا لگا کھا سکے۔قرآن کے الفاظ ، جملے، آیات کا آغاز واختتام ، صوتی زیر و بم ، معانی و مطالب ، ترتیب نظم و نسق سبھی معجزہ ہیں۔1 تصنیفی کام آپ نے معتزلہ اور ملحدین کے رد میں یاد گار لٹریچر چھوڑا ہے۔آپ کے تصنیفی کام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ پینتیس ورق روزانہ رقم فرمایا کرتے تھے۔آپ نے ملحدین کے خلاف کثرت سے کتب لکھیں۔آپ کی پچپن کتب کا ذکر ملتا ہے۔جن میں سے چند مشہور کتب کے اسماء درج ذیل ہیں۔اعجاز القرآن۔تمهيد۔مناقب الائمه۔وقائع الكلام۔كتاب الانصاف۔كتاب البيان۔كتاب الاصول كتاب الاستشهاد كتاب الابانة۔هداية المسترشدين۔الانتصار في نقل القرآن كتاب الامامة۔الكبيرة۔كشف الاسرار۔(ابن کثیر کے نزدیک یہ با قلانی کی تصنیف ہے ) دقائق الکلام۔خصوصاً اعجاز القرآن عربی میں ایک اہم تصنیف ہے۔مختلف نوع سے اس میں اعجاز کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان سب کو قرآن میں ثابت کیا گیا ہے۔آپ کے نزدیک اعجاز القرآن نبوت محمدیہ کی سب سے