مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 76 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 76

76 ولادت و ابتدائی حالات ابوالحسن علی بن اسمعیل بن اسحق بن اسمعیل بن عبداللہ بن موسیٰ بن بلال بن ابی بردۃ بن ابی موسیٰ الاشعری نام تھا۔گویا آپ مشہور صحابی رسول ابو موسیٰ اشعری کی اولاد میں سے تھے۔آپ کا لقب امام المتکلمین تھا۔آپ کے سن ولادت کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض جگہ ۲۰۲ اور بعض جگہ ۲۰ھ اور بعض جگہ ۲۷ ھ ہے۔آپ بصرہ میں پیدا ہوئے۔مجمع البجار میں ہے: هو الامام في المتكلمين على بن اسمعيل من اولاد ابى موسى سنة اثنين و مأتين و مات قبل الثلثين و ثلثمائة“۔آپ کا نام علی بن اسماعیل لمتکلمین ہیں۔ابو موسیٰ اشعری کی اولاد میں سے ہیں۔۲۰۲ ھ میں ولد سنة اثنين ہے۔آپ امام ا پیدا ہوئے اور ۳۳۰ ھ سے قبل فوت ہوئے۔سے " آپ کو مجد د بھی تسلیم کیا گیا ہے۔چنانچہ جلال الدین سیوطی صاحب لکھتے ہیں :- و ابن شريح ثالث الائمه والاشعرى عدة من احد“ اورابن شریح تیسرے امام ہیں اور اشعری بھی ان میں سے ایک ہیں۔سے نواب صدیق حسن خانصاحب نے بھی آپ کو مجدد تسلیم کیا ہے۔فرماتے ہیں :- ترجمہ: تیسری صدی کے نزدیک قرامطیوں کا فتنہ ظاہر ہوا۔اکثر شہروں سے ہوتا ہوا یہ مکہ معظمہ تک جا پہنچا۔حاجیوں کو بڑی شدت سے قتل کر کے چاہ زمزم میں پھینک دیا اور حجر اسود کو ہتھوڑوں سے تو ڑا پھوڑا اور اکھاڑ کر اپنے شہروں میں لے گئے۔اور میں سال سے زائدان کے پاس رہا اور پھر کسی نے تمھیں دینار میں خرید کر دوبارہ مکے میں لا کر نصب کر دیا اور اس صدی کے مجددین میں ابن شریح اور ابوالحسن اشعری اور اسی طرح کے اور لوگ ہیں۔ہے قاضی ابوبکر باقلانی جو خود مجدد تھے انہوں نے فصاحت وحسن تقریر کے باعث انہیں "لسان الامة جو مجدد تھے نے وحسن کا خطاب دیا۔کسی نے کہا آپ کا کلام ابوالحسن اشعری کے کلام سے زیادہ بلند اور واضح معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ” میری یہی سعادت ہے کہ میں ابوالحسن کے کلام کوسمجھ لوں۔ھے ابوالحسن بابلی نے آپ کے بارے میں لکھا: -