مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 70 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 70

70 اور اس میں بہت سے دلائل بیان کیے جیسے ؛ ا۔قرآن میں ہے ایحسب الانسان ان یترک سدی۔گویا ایسا مسئلہ کوئی نہیں جس میں انسان کو شتر بے مہار کہا گیا ہو۔۔آنحضور ﷺ نے لزوم جماعت کا حکم دیا گویا یہ حکم دیا کہ جماعت کے متفقہ فیصلہ سے نہ ہٹو۔۔استحسان کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔حضور نبی کریم یہ استحسان نہیں کرتے تھے بلکہ نئے پیدا شدہ مسئلہ کیلئے وحی کا انتظار کیا کرتے تھے۔۳۹ے جس غور و تدبر سے امام شافعی نے اپنے اصول وقواعد ایجاد کیسے ہیں اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے۔وہ خود لکھتے ہیں کہ میں نے اجماع کی حجت ہونے کی دلیل تلاش کرنے میں تین سو مرتبہ اول سے آخر تک قرآن مجید پڑھا ہے۔بالآخر اس آیت پر میرا اطمینان ہو گیا۔و مــــن یــــــاقـــق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى و نصليه جهنم و سأت مصیرا۔سورہ النساء 116 ٢٠ متفرق آپ صحابہ کا بہت احترام کرتے تھے۔فرماتے تھے علم واجتہاد کی روسے ، ورع و عقل کے اعتبار سے اور رسائی فہم کے لحاظ سے بہر حال صحابہ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ان کی آراء ہمارے لیے بہترین اور برتر ہیں اور ہماری رائے سے اولیٰ ہے۔اسے امام شافعی شریعت کے اصول و فروع اور قضایا کی تفسیر میں ظاہری مسلک سے سرمو تجاوز نہیں کرتے۔ان کا خیال ہے کہ ظاہر کو چھوڑ کر دوسرا مسلک اختیار کر نا محض ظن و تو اہم ہے اور ظن و تو ہم میں خطا کا پہلو غالب ہے اور صواب کا کمزور۔امام شافعی کے اقوال مختلفہ ان کی کتب میں ان کے مختلف یا متضاد اقوال بھی ملتے ہیں۔اس کا حل کئی صورتوں میں ممکن