دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 80
80 و عیسی و ابراهیم و آدم علیہ السلام کے خطاب میں خدا نے فرمایا ہے اس سے میرا خطاب مراد ہے اور نہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ جو خصوصیات و کمالات اُن انبیاء میں پائی جاتی ہیں۔وہ مجھ میں پائی جاتی ہیں۔كلا والله ثم بالله ثم تالله اس کتاب میں یا خار جامؤلف نے یہ دعاوی نہیں کئے اور ان کو کامل یقین اور صاف اقرار ہے کہ قرآن اور پہلی کتابوں میں اب آیات میں مخاطب ومراد وہی انبیا ہیں جن کی طرف ان میں خطاب ہے اور ان کمالات کے محل وہی حضرات ہیں جن کوخدا تعالیٰ نے ان کمال کا محل ٹھہرایا ہے۔اپنے اوپر ان آیات کے الہام یا نزول کے دعوے سے ان کی مراد ( جس کو وہ صریح الفاظ سے خود ظاہر کر چکے ہیں ہم اپنی طرف سے اختراع نہیں کرتے ) یہ ہے کہ جن الفاظ یا آیات سے خدا تعالیٰ نے قرآن یا پہلی کتابوں میں انبیا علیم السلام کو مخاطب فرمایا ہے ان ہی الفاظ یا ( آیات) سے دوبارہ مجھے بھی شرف خطاب بخشا ہے پر میرے خطاب میں ان الفاظ سے اور معانی مرادر کھے ہیں جو معانی مقصودہ قرآن اور پہلی کتابوں میں کچھ مغایرت اور کسی قدر مناسبت رکھتے ہیں اور وہ ان معانی کے اظلال و آثار ہیں۔تمثیلات آیه نمبر : ( منجملہ آیات پیش کردہ فریق ثانی ) کے معنی قرآن مین وہ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ آیت آنحضرت کے خطاب میں ہے اور اس میں آنحضرت کا اتباع امت پر واجب کیا گیا ہے اور جب انہی الفاظ سے خدا نے ان کو ملہم ومخاطب کیا تو ان الفاظ میں (نہ قرآن میں ) وہ اپنے آپ کو مخاطب سمجھتے ہیں اور اپنے اتباع سے اتباع آنحضرت علی مراد قرار دیتے ہیں کہ اگر تم خدا سے محبت قراردیتے رکھتے ہو تو میری پیروی کرو یعنی اتباع رسول مقبول کرو تا خدا تم سے بھی محبت کرے۔اور آیت نمبر ۲ کے قرآن میں تو وہ یہ معنی سمجھتے ہیں کہ اس میں قرآن مجید کی نسبت مشرکین کے قول کی حکایت ہے کہ وہ دو بستیوں (مکہ اور طائف ) میں سے کسی سردار آدمی پر کیوں نہ اترا اور جب ہی ان الفاظ سے خدا نے ان کو ملہم و مخاطب فرمایا تو ان میں ( نہ قرآن میں ) امر منزل سے وہ الہام کو مراد خداوندی سمجھتے ہیں (یہی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ میں لفظ نزل کے بعد لفظ قرآن