دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 64 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 64

64 مفتی محمود صاحب ایک بار پھر غلط ثابت ہونے والے حوالوں کو دہراتے ہیں مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنو امولوی صاحبان کو دلائل کی اس قدر کمی کا سامنا تھا کہ وہ اب انہی حوالوں کو دہرانے پر مجبور تھے جن کو انہی صاحبان کی طرف سے سوال و جواب کے اجلاسات کے دوران پیش کیا گیا تھا اور جب مکمل اور درست حوالے وہاں پڑھے گئے تو صاف ثابت ہو گیا کہ ان سے وہ مطلب کسی طرح اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا جو کہ وہاں پر پیش کیا گیا تھا۔اس وقت تو شرمندگی کی وجہ سے خاموشی اختیار کی گئی تھی لیکن اب خانہ پری اور وقت گزاری کے لیے وہی اعتراض دوبارہ پڑھے جا رہے تھے۔اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب نے یہ اچھوتا نظریہ پیش کر کے سابقہ خفت کا ازالہ کرنے کی کوشش کی کہ اصل میں تو احمدیوں نے خود ہی یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ انہیں اقلیت اور غیر مسلم قرار دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے احمدیوں کے متعلق کہا: چنانچہ انہوں نے غیر منقسم ہندوستان میں اپنے آپ کو سیاسی طور پر بھی مسلمانوں سے الگ ایک مستقل اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: میں نے اپنے نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے بھی حقوق تسلیم کیے جائیں۔جس پر اس افسر نے کہا کہ وہ تو ایک اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم لیے گئے ہیں اسی طرح ہمارے بھی کیے جائیں۔تم ایک پارسی پیش کر دو، اس کے مقابلہ میں دو ود احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔(مرزا بشیر الدین محمود کا بیان مندرجہ الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۴۶ء) یہ معین الفاظ تو اس خطبہ جمعہ میں موجود ہی نہیں۔مفتی محمود صاحب کا اخلاقی فرض تھا کہ کم از کم معین الفاظ پڑھتے۔نہ کہ عبارت کے کچھ الفاظ تبدیل کر کے اور کچھ اپنی طرف سے شامل کر کے حوالہ پیش کرتے اور جو عبارت انہوں نے پڑھی تھی اس میں بھی اپنے آپ کو اقلیت قرار دینے کے کسی مطالبہ کا کوئی ذکر نہیں۔