دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 63 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 63

63 تو پھرسنی امام شبیر عثمانی صاحب کی امامت میں دوبارہ نماز جنازہ ادا کی گئی تھی جس میں سنی احباب شامل ہوئے تھے۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ کسی نے احمدی امام کو اجازت نہیں دینی تھی کہ وہ یہ نماز جنازہ پڑھائے۔اس پس منظر میں احمدیوں پر یا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر یہ اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا۔(Sectarian War, by Khaled Ahmaed, published by Oxford 2013 p 8&9) یہ شدت پسند گروہ ہمیشہ سے لوگوں کو جماعت احمدیہ کے خلاف یہ کہہ کر بھڑکاتے رہے کہ احمدی غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ نہیں پڑھتے لیکن خود ان کی کوکھ سے جنم لینے والے دہشت گردوں نے جو فتاویٰ جاری کیے وہ ملاحظہ کریں۔سلیم شہزاد صاحب لکھتے ہیں کہ ۲۰۰۴ء میں اسلام آباد کے مولوی عبد العزیز صاحب اور ان کے دارالافتاء نے پاکستان کے فوجیوں کے بارے میں یہ فتویٰ دیا کہ جو پاکستانی فوجی جنوبی وزیرستان میں مارے جا رہے ہیں ان کی نماز جنازہ پڑھنی جائز نہیں اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے لیکن اس کے باوجود جماعت احمدیہ کی مخالف جماعتیں ہمیشہ ان مولوی صاحب کا دفاع کرتی رہیں، ان کے خلاف کوئی فتویٰ دینے کی ہمت نہیں کر سکیں۔(Inside Al-Qaeda and Taliban, by Syed Saleem Shehzad, published by Plato Press 2011,p160) یہاں نماز جنازہ کا ذکر کیا کریں؟ اگر جماعت احمدیہ کے ساتھ ہونے والا سلوک فراموش بھی کر دیا جائے تو بھی جماعت احمدیہ کے ان مخالف علماء نے جو کہ اکوڑہ خٹک کے دیو بندی مدرسہ سے وابستہ تھے شیعہ فرقہ کے متعلق یہ فتویٰ دیا تھا کہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا ، ان کوسینیوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور ان سے شادی کرنا سب ممنوع ہے اور ۱۹۷۸ء میں انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ مشرقی پاکستان شیعہ سازش کی وجہ سے علیحدہ ہوا تھا۔یادر ہے سوال و جواب کے دوران بھونڈے انداز میں یہ الزام جماعت احمدیہ پر بھی لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ابھی چار سال ہی گزرے تھے کہ طوطے کی طرح رٹے ہوئے یہ الزام ایک اور فرقہ پر لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔(Sectarian War by Khaled Ahmed, Oxford 2013, p136)