دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 55 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 55

55 پیش کر دیا کہ اصل میں تو مرزائیوں کا خود یہ دعوی ہے کہ وہ علیحدہ ملت ہیں اور وہ اپنے آپ کو ملت اسلامیہ سے خود ہی علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں۔اگر کسی کو لاعلمی کی وجہ سے معذور بھی سمجھا جائے تو جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے بعد اور اتنے روز کے سوال و جواب کے بعد یہ ایک لایعنی دعوی تھا۔اگر ایسا ہی تھا کہ احمدی خود اپنے آپ کو ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں سمجھتے تھے اور وہ خود اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دلوانا چاہتے تھے تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ احمدی حکومت کو اور قومی اسمبلی کو یہ درخواست کرتے کہ ہم ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہیں اس لیے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہمیں سرکاری کاغذات میں غیر مسلم شمار کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم اس پر شدید احتجاج کریں گے اور یہی موقف جماعت کے محضر نامہ میں پیش ہونا چاہیے تھا لیکن ۱۹۷۴ء میں تو عملاً یہ ہو رہا تھا کہ احمدی اس بات کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے اور اس پاداش میں ان کے گھروں کو نذرآتش کیا جارہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے ہیں؟ اور جماعت احمدیہ کے مخالفین اس بات کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ کسی طرح آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔یہ صورت حال صرف ۱۹۷۴ ء تک محدود نہیں تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانہ سے ہی یہی ہورہا تھا۔اپنے اس مفروضے کی تائید میں مفتی محمود صاحب نے جو پہلی دلیل پیش کی وہ خود ہی ان کے مفروضے کی تردید کر رہی تھی۔انہوں نے خطبہ الہامیہ کا یہ حوالہ پڑھا: وو ” اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔۔۔(روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۷) قارئین خود اس بات کو پرکھ سکتے ہیں کہ مفتی محمود صاحب کے دعوے کی تردید ان کی پیش کردہ دلیل خود کر رہی تھی۔یہ بالکل درست ہے کہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ آنے والے موعود مصلح نے آنحضرت ﷺ کا غلام آپ کا روحانی شاگرد اور آپ کا مظہر ہونا تھا جیسا کہ مندرجہ بالا حوالے سے بھی ظاہر ہوتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے کہ احمدی نعوذ باللہ اپنے آپ کو امت مسلمہ سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔اس سے تو بالکل برعکس نتیجہ نکلتا ہے۔