دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 46 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 46

46 ولی نہیں ہوسکتا۔بہت سے محققین کو خاتم محققین قرار دیا گیا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے بعد کوئی محقق پیدا نہیں ہوسکتا۔(محضر نامہ صفحہ ۹۹ تا ۱۰۴) ہم ان میں سے کچھ مثالیں درج کرتے ہیں۔ایک طرف تو جماعت احمدیہ کے مخالف مولوی صاحبان اس بات پر مصر ہیں کہ ”خاتم النبیین کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا اور دوسری طرف یہ ایک دوسرے کو خاتم الاولیاء کے لقب سے بھی نوازتے رہے ہیں مثلاً مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب کی وفات پر مولوی محمود حسن صاحب نے جو مرثیہ لکھا تھا اس کے سرورق پر مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب کو خاتم الاولیاء قرار دیا گیا تھا۔یہ مرثیہ راشد کمپنی دیو بند نے شائع کیا تھا۔اس طرح دیوبندی حضرات مولا نا قاسم نانوتوی صاحب کو خاتم الخفقین قرار دیتے رہے ہیں۔مولانا قاسم نانوتوی صاحب کی تصنیف ”رسالہ تحہ لحمیہ" جب مطبعہ گزارا براہیم مراد آباد سے مولوی محمد ابراہیم صاحب شاہجہانپوری صاحب نے شائع کرائی تو اس کے سرورق پر ہی مولا نا قاسم نانوتوی صاحب کے نام کے ساتھ ” خاتم امحققین “ کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب ان کے بعد کوئی محقق پیدا نہیں ہوگا۔اسی طرح محمد عبد الاحد صاحب نے مولانا قاسم نانوتوتی صاحب کے بعض مکاتیب ”اسرار قرآنی“ کے نام سے شائع کروائے تو اس کے سرورق پر بھی مولا نا قاسم نانوتوی صاحب کے نام کے ساتھ خاتم المفسرین کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔کیا ہم سمجھیں کہ نانوتوی صاحب کے بعد کوئی قرآن کریم کی تفسیر بھی نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ مولانا الطاف حسین حالی صاحب نے اپنی کتاب حیات سعدی میں لکھا ہے کہ حبیب آنی شیرازی کو ایران کے لوگ خاتم الشعراء سمجھتے ہیں اور شیخ علی حزیں کے متعلق لکھا ہے کہ ان کو ہندوستان میں خاتم الشعراء سمجھتے ہیں۔(حیات سعدی مصنفہ مولنا خواجہ الطاف حسین حالی ناشران شیخ جان محمد اله بخش تا جبران کتب علوم مشرقیه کشمیری بازارلا ہور ستمبر ۱۹۴۶ صفحہ ۷۴ اور (۱۰)۔خواہ لغت کو معیار مانا جائے یا گزشتہ صدیوں کے مصنفین اور بزرگان کی تحریروں کو دیکھا جائے یا اس دور میں جماعت احمدیہ کے مخالفین کی تحریروں کو دیکھا جائے۔ان سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ” خاتم الانبیاء کے وہی حقیقی معانی ہو سکتے ہیں جن کو جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری آنحضرت ﷺ کے اس