دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 214 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 214

214 تو یہ تھی حقیقت۔۱۹۷۰ء کی دہائی میں کچھ گروہ اس بات کی سازش کر رہے تھے کہ موقع ملے تو پاکستان میں فساد برپا کریں۔پاکستان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر کے ان پر اپنی حکومت قائم کر لیں۔متوازی افواج قائم کر کے پاکستان میں خون خرابہ کریں اور سب کو غافل کرنے کے لئے اس کا الزام معصوم احمدیوں پر لگایا جارہا تھا تا کہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی سازش کو عملی جامہ پہنا سکیں۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو کہ اب تک نہ صرف مختلف مسلمان فرقوں پر کفر کے فتوے لگانے میں سرگرم عمل ہیں بلکہ عقائد کی بناء پر ہر سال ہزاروں مسلمانوں کا خون بھی کر رہی ہیں اور یہی تنظیمیں پاکستان کے مختلف مقامات پر اپنی ”ریاست“ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ایسی جگہیں جہاں پر عملاً ان کا راج ہو اور وہاں پر پاکستان کی حکومت کی عملداری ختم کر دی جاتی ہے۔آخران تنظیموں نے کس کو کھ سے جنم لیا تھا ؟ اس موضوع پر بہت سی تحقیقات سامنے آچکی ہیں ہم نے صرف چند مثالیں پیش کی ہیں۔ان تنظیموں کو جماعت احمدیہ کے مخالفین نے جنم دیا تھا۔کا فرگری کا عمل کیا رنگ لایا ؟ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کی طرف سے محضر نامہ پیش کیا گیا تھا۔اس محضر نامہ میں واضح انتباہ کیا گیا تھا کہ ابھی بظاہر صرف جماعت احمدیہ کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ بہت وسیع سازش تیار ہو چکی ہے۔اور گاہے بگا ہے اس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔اصل منصوبہ یہ ہے کہ اس مرحلہ کے بعد بہت سے دوسرے فرقوں پر کفر کے فتوے لگائے جائیں گے۔کچھ کو کافر اور مرتد اور کچھ کو واجب التعزیر اور واجب القتل قرار دیا جائے گا اور اس طرح عالم اسلام کا اتحاد پارہ پارہ کر دیا جائے گا اور نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ان گنت فسادات کا راستہ کھل جائے گا۔امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اس کے معین ثبوت قومی اسمبلی میں پیش کیے تھے ( محضر نامہ ص ۱۶۷ تا ۱۷۲)۔اس کے جواب میں مفتی محمود صاحب نے ان کا جواب دیتے ہوئے علامہ اقبال کی تحریروں کے حوالے پیش کیے تھے کہ عالم اسلام