دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 213 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 213

213 تربیت دینے کے لئے علی پور جتوئی کے قریب جنگل میں ایک تربیتی مرکز قائم کیا گیا۔جب تحریک ختم نبوت ختم ہو گئی تو جمیعت المجاہدین کے کارکن بھی منتشر ہو گئے اس کے بعد مولانا مسعود علوی مختلف مدارس میں گئے مگر کسی نے حکومتی دباؤ کے پیش نظر اپنے مدرسے میں عسکری تربیت کی اجازت نہ دی۔بالآ خر خواجہ خان محمد آف کندیاں شریف نے مولانا مسعود علوی کو اپنے مدرسے میں طلبہ کو فنون حرب سکھانے کی اجازت دے دی۔اس مدرسے میں مولانا نے درس و تدریس کے ساتھ طلباء کو فنون حرب سکھانا شروع کر دیئے۔یہاں پر اسلحہ مہیا کیا گیا اور نشانہ بازی کی مشق روزانہ کا معمول بن گیا۔جب مولا نا مفتی محمود صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے تو وہ تحریک ختم نبوت کے اہم راہنما خواجہ خان محمد کو کندیاں شریف ان کے مدرسے میں ملنے کے لئے آئے۔ان کو مسعود علوی نے اپنے تربیت یافتہ مجاہدین 66 کے ساتھ سلامی پیش کی۔پنجابی طالبان، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ ، صفحہ ۹۹٬۹۸) اس کے علاوہ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ۱۹۷۴ء سے اب تک پاکستان میں کن گروہوں نے متوازی افواج اور لشکر بنائے جنہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کا خون کیا؟ یہ متوازی افواج بنانے والے جماعت احمدیہ کے اشد ترین دشمن تھے۔جماعت احمدیہ پر یہ الزام تو جعلی افسانوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا لیکن یہ لشکر تو ایک حقیقت ہیں جو کہ ہزاروں پاکستانیوں کا خون کر چکے ہیں۔فوج کے جی ایچ کیو پر اور نیوی کے حساس مراکز پر حملہ کر چکے ہیں۔اس وقت بھی افواج پاکستان وزیرستان میں ان کے خلاف جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔خالد احمد اپنی کتاب میں جو کہ Sectarian War کے نام سے شائع ہوئی ہے، یہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۸۵ء میں حق نواز جھنگوی صاحب نے سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی۔خاص طور پر شیعہ فرقہ کے خلاف اس تنظیم کی دہشت گردی معروف ہے۔اس کے بانی حق نواز جھنگوی صاحب بھی پہلے جمعیت العلماء اسلام کے ممبر تھے اور ۱۹۷۴ء میں جمیعت العلماء کے قائد مفتی محمود صاحب تھے۔اس طرح اس دہشت گرد تنظیم نے بھی انہی کی جماعت کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔(Sectarian War, by Khaled Ahmed, published by Oxford University Press 2013,p116-117)