دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 210
210 تو قعات کو پورا کر دکھایا جو اس ضمن میں آپ سے کی گئی تھیں۔دشمن نے ہوا سے اور زمین سے آپ پر شدید حملے کئے لیکن آپ نے ثابت قدمی سے اور اولوالعزمی سےاس کا مقابلہ کیا اور ایک انچ زمین بھی اپنے قبضہ سے نہ جانے دی۔“ (الفضل ۲۳ جون ۱۹۵۰ء صفحه ۸) ویسے تو جماعت احمدیہ کے مخالفین جہاد یا قتال کی فرضیت پر زور دے کر جماعت احمدیہ کو اس کا منکر قرار دیتے ہیں لیکن جب پاکستان کو ضرورت پڑی تو ان مخالفین میں سے کوئی بھی آگے نہ آیا کہ ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا۔اُس وقت نہ مفتی محمود صاحب کی جماعت یعنی جمیعت العلماء اسلام سامنے آئی، نہ جماعت اسلامی سامنے آئی اور نہ مجلس احرار سامنے آئی اور جب یہ دور گذر گیا تو ان کو اعتراض کرنا ضرور یا درہ گیا۔البتہ یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ بعد میں ظاہر ہونے والے حالات نے ثابت کیا کہ اس قسم کی سازشیں جماعت احمد یہ نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے اشد مخالفین تیار کر رہے تھے جو مدارس جماعت احمدیہ کی مخالفت میں شہرت رکھتے تھے ، ان کے فارغ التحصیل اشخاص حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث تھے اور پاکستان کی حکومت پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہے تھے۔(Sectarian War, by Khaled Ahmad, Oxford 2013, p134) ریاست کے اندر ریاست بنانے کا منصوبہ کس کا تھا یہ تو حوالوں کا تجزیہ تھا کہ کس طرح جعلی اور نامکمل حوالے پیش کر کے ایک افسانہ ممبران اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا کہ احمدی پاکستان میں اپنی علیحدہ ریاست بنانے کی سازش تیار کر رہے ہیں۔اس ضمن میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ الزام صرف احمدیوں پر نہیں لگایا گیا بلکہ مولوی حضرات جب بھی کسی کے خلاف نفرت انگیزی کی مہم چلاتے ہیں تو اس قسم کا الزام اس فرقہ یا گروہ پر لگایا جاتا ہے مثلاً انہی شدت پسند گروہوں نے جب اسماعیلی فرقہ کے خلاف مہم چلانی شروع کی تو ان پر بھی یہ الزام لگایا گیا کہ وہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اور کشمیر میں اپنی علیحدہ ریاست