دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 177
177 Muhammad, published by Meenakshi Prakashan, Vol۔5۔P 46-52) اس ضمن میں مفتی محمود صاحب تو صرف جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف شورش کاشمیری صاحب کی کتاب عجمی اسرائیل کا حوالہ پیش کر سکے تھے۔یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ اس کتاب میں دیدہ دلیری سے جھوٹ بولا گیا ہے اور اس کی کوئی وقعت نہیں لیکن ہم نے معتبر کتب کے حوالے درج کر دیئے ہیں۔ہر کوئی یہ جائزہ لے سکتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران جو گر وہ سلطنت عثمانیہ اور عربوں میں پھوٹ ڈال رہے تھے وہ وہی تھے جو کہ ماضی میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں یا پھر ان کے قریبی دوست تھے۔سلطنت عثمانیہ اور عرب ممالک کے بعد مفتی محمود صاحب نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کا رخ کیا اور اس مرتبہ اعتراض یہ کیا کہ جب ۱۹۱۹ء میں افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ نے ہندوستان میں انگریز حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو اس وقت امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے یہ اعلان کیا ہے کہ امیر امان اللہ نے یہ نادانی کی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ امیر امان اللہ نے عقائد کی وجہ سے احمدیوں کو شہید کرایا تھا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ امیر امان اللہ نے عقائد کی وجہ سے احمدیوں کو شہید کرایا تھا ان میں مولوی نعمت اللہ صاحب بھی شامل تھے۔اب احمدی ایسے بادشاہ کی مذمت ہی کریں گے بلکہ ہر شریف آدمی کو کرنی چاہیے۔احمدیوں سے یہ توقع تو بالکل نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ ایسے بادشاہ کی تعریف کرنے پر کمر بستہ رہیں۔شاید ۱۹۱۹ء میں تو یہ بات بحث کے قابل ہو کہ امیر امان اللہ نے نادانی سے کام لیا کہ نہیں لیکن اب جبکہ تمام واقعات گذر چکے ہیں یہ بحث کوئی جواز نہیں رکھتی۔ہم اس دور میں گذرنے والے حالات کا خلاصہ پیش کریں گے اور حوالے بھی صرف مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتب کے پیش کریں گے تا کہ کوئی اشتباہ نہ رہے۔مئی ۱۹۱۹ء میں امیر امان اللہ نے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔امیر امان اللہ کی افواج اتنی منتظم اور تربیت یافتہ نہیں تھیں کہ زیادہ دیر پا کارگردگی کا مظاہرہ کرسکتیں اور برطانوی حکومت کے لیے یہ حملہ غیر متوقع تھا اور پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریز حکمران کسی لمبی جنگ کے لیے آمادہ نہیں تھے کہ