دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 130
130 صل الله پوچھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل آئے تھے تا کہ دنیا کو دین سکھایا جائے تب آنحضرت ﷺ نے یہ جوابات ارشاد فرمائے جو کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک جامع تعریف پر مشتمل ہیں اور اس سے بہتر بنیادی تعریف نہیں ہو سکتی لیکن مفتی محمود صاحب اس موقف پر مصر تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیان فرمودہ تعریف جامع نہیں ہے۔ایمان میں ترقی اور اس کی تکمیل کے دروازے تو کھلے ہیں لیکن بنیادی تعریف وہی ہے جو کہ رسول اللہ علیہ نے بیان فرمائی ہے۔ورنہ اگر یہ اصرار کیا جائے کہ جو کسی مولوی صاحب کے فیصلہ کی رو سے کسی ایک حکم پر بھی پورا عمل نہیں کرے گا وہ غیر مسلم ہو جائے گا تو پھر دنیا میں مسلمان کو ڈھونڈ نا مشکل ہو جائے گا۔اس مرحلہ پر مفتی صاحب سے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ ختم نبوت پر ان کے موقف کی تائید میں بیسیوں آیات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن اس مرتبہ پھر انہوں نے یہ آیات پیش نہیں کیں اور محض دعویٰ پیش کر کے گریز کا راستہ اختیار کیا جیسا کہ گزشتہ کتاب میں بھی مثالیں دی جا چکی ہیں بہت سے امور ایسے ہیں جو کہ ایک فرقہ کی رو سے ضروری احکام دین میں سے شمار ہوتے ہیں جیسا کہ شیعہ احباب حضرت علی کے وصی ہونے اور بلا فصل خلیفہ ہونے کے بارے میں عقائد کوضروری اور من جانب اللہ اور احکام رسول ﷺ کے مطابق سمجھتے ہیں لیکن دوسرے مسلمان فرقے ان پر یقین نہیں رکھتے۔پھر مفتی صاحب کی تعریف کی رو سے شیعہ احباب کے نزدیک دیگر فرقے کا فر ہو جائیں گے اور اسی طرح کی صورت حال دوسرے فرقوں کے نزدیک ہو جائے گی اور پھر کا فرگری کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔مفتی صاحب مختلف فرقوں کے باہمی فتاویٰ تکفیر کی وضاحت کی کوشش کرتے ہوئے ایک بار پھر غلط بیانی کا سہارا لینے پر مجبور ایک سوال مولوی مفتی محمود صاحب کا کسی آسیب کی طرح پیچھا کر رہا تھا اور وہ یہ سوال تھا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے محضر نامہ میں، خاص طور پر محضر نامہ کے ضمیمہ نمبر۴ میں اور پھر سوال وجواب کے دوران بھی بار بار مولوی حضرات کے وہ فتوے پیش کئے گئے تھے جس میں دوسرے فرقوں کو قطعی طور پر کا فر، اسلام کا دشمن وغیرہ قرار دیا گیا تھا۔جب یہ فتوے پیش کیے گئے تو ممبران اسمبلی میں