دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 126 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 126

126 کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ نازل ہو گا تم میں ابن مریم حاکم عادل اور توڑنے والا صلیب کا اور مارے گا خنزیروں کو اور موقوف کر دے گا جزیہ کو اور لوگوں کو کثرت سے مال دے گا یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔“ ( صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم ، جامع ترندی ابواب الفتن ماء جاء فی نزول عیسی ابن مریم ) ملاحظہ کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی قسم کے ساتھ بیان فرمارہے ہیں کہ ضرور وہ موعود مسیح آئے گا اور احمدیت کی دشمنی میں مسیح کی آمد کو ایک مجوسی تصور قرار دیا جا رہا ہے اور اگر کوئی کج بحثی سے یہ اصرار کرے کہ اردو میں ” مسیح موعود کی اصطلاح کہاں استعمال ہوتی تھی تو عرض یہ ہے کہ ان الفاظ میں بھی مسلمانوں کی تحریروں میں یہ اصطلاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے قبل بکثرت استعمال ہوتی تھی۔ہم سلسلہ احمدیہ کے مشہور مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی تحریر سے ہی ایک مثال پیش کر دیتے ہیں۔مولوی صاحب اشاعۃ السنہ میں براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔یہ الفاظ ہمارے اس بیان کے مصدق ہیں کہ مولف کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ حضرت مسیح سے مشابہت کا ادعا ہے سو بھی نہ ظاہری وجسمانی اوصاف میں بلکہ روحانی اور تعلیمی وصف میں۔“ (اشاعۃ السنہ صفحہ 9 نمبرے جلدے) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے سے معا قبل بھی یہ اصطلاح عام تھی جسے احمدیت کی مخالفت میں مجوسی اصطلاح قرار دیا گیا۔مفتی محمود صاحب علامہ اقبال کی جس تحریر کا حوالہ پیش کر رہے تھے اس کے بعض حصے مفتی صاحب اور ان کے ہمنوا احباب کے لئے بھی قابل توجہ تھے۔اسی تحریر میں علامہ اقبال نے تحریر کیا ہے مولوی اور صوفی عمداً ایسا پر اسرار ماحول پیدا کرتے ہیں تاکہ عوام کی جہالت اور تقلید کا نا جائز فائد ا ٹھا یا جا سکے اور اگر انہیں اختیار ہوتا تو وہ ہندوستان میں ہر مولوی کے لئے لائٹس حاصل کرنا ضروری قرار دیتے اور ا تا ترک نے جو معاشرے سے مولوی کو نکال باہر کیا ہے اگر ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ ا سے دیکھ لیتے تو بہت خوش ہوتے اور علامہ اقبال نے مشکوۃ کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر اس خیال کا