دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 104
104 ہوسکتا ہے کہ کوئی کم فہم جلدی میں اسے گالی یا سخت کلامی قرار دے لیکن ہر منصف مزاج یہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ صرف امر واقعہ کا اظہار تھا کیونکہ بنوقریظہ نے دوسرے یہودی قبائل کی بدعہدی کی نقل کی تھی اور ان کے بد انجام سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا تھا۔مفتی محمود صاحب کے اس الزام کے آغاز پر یہ سرخی لگائی گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علماء کے متعلق یہ سخت بیانی کی ہے۔وہ بھول رہے تھے کہ اس دور فتن کے علماء کے اس حال کو پہنچنے کی پیشگوئی کس کی تھی۔یہ پیشگوئی آنحضرت ﷺ کی تھی کہ ایک ایسا دور آئے گا کہ اس امت کے علماء خصلت میں جانوروں کی مماثلت پیدا کر لیں گے۔چنانچہ یہ حدیث ملاحظہ ہو ” میری امت پر ایسا خوف کا وقت آئے گا کہ لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے 66 اور دیکھیں گے کہ ان کی جگہ بند ر اور سو ر بیٹھے ہیں۔“ (کنز العمال الجزء الثالث عشر ، ناشر دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان صفحه ۱۲۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں میں اس سے زیادہ مضمون بیان نہیں ہوا جو کہ اس حدیث نبوی میں بیان کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح بیان فرمایا ہے کہ جہاں آپ کی تحریروں میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہاں صرف وہ مخالف مخاطب ہیں جنہوں نے گالی گلوچ اور دشنام طرازی کی انتہا کر دی تھی اور شریف طبع علماء مخاطب نہیں ہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔”ہمارا یہ کلام شریر علماء کے متعلق ہے، نیک علماء اس سے مستنی ہیں۔“ ( ترجمه از عربی۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۱۴) واضح رہے کہ دوسرے مذاہب کی مقدس کتب میں بھی مخالفین کی روحانی حالت ظاہر کرنے کے لیے اس قسم کے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔متی کی انجیل میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو فر مایا: ”اے سانپ کے بچو تم برے ہو کر کیونکر اچھی بات کہہ سکتے ہو۔(متی باب ۱۲ آیت ۳۴) پھر انہیں مخاطب کر کے فرمایا: ”اے سانپو! اے افعی کے بچو ! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے۔“ (متی باب ۲۴ آیت ۳۴)