دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 103
103 (البقرة: ۱۲۲۱۲۰)۔اسی طرح قرآن کریم میں اہل کتاب اور مشرکین میں سے انکار کرنے والوں کو تمام مخلوقات اور تمام جانوروں سے بدتر یعنی شر البریہ قرار دیتا ہے (البینة: ۷)۔اسی طرح کفار کے معبودان باطلہ کو جہنم کا ایندھن یعنی ”حصب جہنم قرار دیا۔(الانبیاء: ۹۹)۔مشرکین کو نجس یعنی ناپاک قراردیا (التوبة: ۲۸)۔اسی طرح ان کفار کو جو عقل سے کام نہیں لے رہے تھے ”شر الدواب ( یعنی سب چوپایوں سے بدتر ) قرار دیا۔(الانفال:۲۳)۔اسی طرح شدید معاند اور مکذب کو عتل یعنی بد لگام اور زنیم، یعنی ولد الحرام کا نام دیا۔(القلم )۔پھر توریت پر ایمان لانے والوں اور پھر اس پر عمل نہ کرنے والوں کی حالت کو گدھے سے مشابہ قرار دیا (الجمعة:۲)۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کے عظم الشان نشانات دیکھ کر پھر بھی سبق نہ سیکھنے والوں کے لیے اندھے بہرے اور گونگے کے الفاظ استعمال کیے گئے (البقرة : ۱۹)۔اس قسم کی تحریرات پر اعتراض کیے گئے ہیں لیکن بیچ یہ ہے کہ یہ حقیقت حال ہے نہ کہ دشنام دہی یا گالیاں۔ان لوگوں کی روحانی حالت کو بیان کیا گیا ہے۔اگر کوئی طبیب کسی مریض کو سرطان کا مریض قراردے یا فاتر العقل یا مجنون قرار دے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے بد زبانی کی ہے بلکہ اس نے تو صرف صحیح تشخیص کی ہے جو کہ صحیح علاج کے لیے ضروری ہے۔بعینہ یہ اعتراض مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس پر بھی کیا تھا۔وہ اپنے لیے تو قتل و غارت اور ہر طرح کا ظلم بھی جائز سمجھتے تھے لیکن جب آنحضرت ﷺ نے امر واقعہ کا اظہار فرمایا تو انہوں نے آپ کے چا ابو طالب کے سامنے گلہ کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ہم پر طعنہ زنی کی ہے اور ہمارے نوجوانوں کو احمق کہا ہے۔(طبقات ابن سعد جلد ادارالاشاعت ۲۰۰۳ صفحه ۱۹۸) اسی طرح روایت ہے کہ جب غزوہ خندق کے دوران بنو قریظہ نے بدعہدی کی اور مشرکین سے مل گئے اور اس غزوہ کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کیا تو آپ نے فرمایا: اے بندروں کے بھائیو ! تم نے دیکھا کہ خدا نے تم کو کس طرح ذلیل کیا اور کیسا عذاب تم پر نازل کیا۔“ (سیرت النبی ﷺ ابن ہشام جلد۲، ناشر ادارہ اسلامیات لاہور، طباعت سوئم جولائی ۱۹۹۴ء ص ۱۶۹،۱۶۸)