دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 100 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 100

100 اس پہلو کے علاوہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مفتی محمود صاحب کو بعض بنیادی امور کا علم نہیں تھا اس لیے انہوں نے بعض الہامات کو اعتراض کے رنگ میں پیش کر دیا مگر اس کے ساتھ یہ بیان نہیں کر سکے کہ آخر انہیں اعتراض کیا ہے؟ مثلاً انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ اعتراض پیش کیا ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تمام مذاہب میں آخری زمانہ کے لیے ایک مصلح کی پیشگوئی موجود تھی۔یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ یہ سب وجود علیحدہ علیحدہ ظہور کرتے اور دنیا کو مختلف سمتوں میں لے جانے کے لیے کاوشیں شروع کر دیتے اور بجائے وحدت کے اختلاف پیدا کرتے۔ظاہر ہے کہ یہ سب پیشگوئیاں ایک ہی وجود کے بارے میں تھیں جس کے متعلق مختلف انبیاء اور مقربین الہی بشارات دیتے رہیں۔اسی طرح حضرت کرشن نے بھی پیشگوئی کی تھی جب بھی دنیا میں راستی کا زوال ہوتا ہے اور بدی پھیل جاتی ہے تو میں ظہور کرتا ہوں اور نیک لوگوں کی حفاظت کرتا ہوں اور بد کا رلوگوں کو ختم کرتا ہوں۔(The Bhagavadgita, translated by Vrinda Nabar& Professor Shanta Tumkar, Wordsworth edition 1997, p 20) اور اسی طرح حضرت کرشن نے اپنے مختلف صفاتی نام بھی بیان کیے ہیں جن میں سے ایک رودر بھی ہے۔(The Bhagavadgita, translated by Vrinda Nabar& Professor Shanta Tumkar, Wordsworth edition 1997, p48) مذاہب عالم کی تاریخ سے جسے کچھ بھی دلچسپی ہو وہ جانتا ہے کہ حضرت کرشن کے وجود کو ایک ایسے وجود کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو کہ گائے پالنے والا وجود ہے اور گوپال کا مطلب ہے گایوں کی پرورش کرنے والا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اسماء کی یہ لطیف تشریح بیان فرمائی ہے۔اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا جو کرشن کی صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔