مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 6
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ لڑکیوں کی ٹھیک نہیں ہوتی۔نہ معلوم کسی کی قسمت کیسی ہو۔آپ فرماتے ، تم فکر نہ کر وخداشگر خورے کوشگر دیتا ہے“ یہ الفاظ آپ کے مجھے یاد ہیں۔حضرت اماں جان کے اکثر میرے نہلانے کے وقت میں چیخ کر ابا کو پکارتی ( روتے ہوئے ) آپ کہتے نہ تنگ کرو۔66 آپ فرماتیں لڑ کی ذات ہے بدن نہیں ملواتی ، کہنیاں کالی رہ جائیں گی۔آپ فرماتے نہیں رہیں گی کالی چھوڑ دو۔" یہ بھی فرماتے " کہ لڑکی ہے آخر ہمارے پاس چند دن کی مہمان ہے، یہ کیا یاد کرے گی۔یہی خاص خیال اور ناز برداری کا اثر بھائیوں نے لیا تھا۔ایک بات کوئی ذراسی بات بھی ایسی یاد نہیں کہ کسی بھائی نے ستایا ہو۔حضرت بڑے بھائی صاحب کو تو میں بچپن سے ہی مسیح موعود علیہ السلام کی جگہ جانتی تھی۔جس وقت آپ موجود نہ ہوتے ان کے پاس فریاد کی اور انہوں نے فورا میرا کہتا کیا۔(3) میں بچہ تھی بالکل چھوٹی ، جب بھی آپ نے مجھے کہا اور شاید کئی بار کہ " جب تم آنکھ کھلے کروٹ لیتی ہو اس وقت ضرور دعا کر لیا کرو۔“ میں اٹھ نہ سکوں ، بیمار ہوں ، کچھ ہو یہ عادت میری اب تک قائم ہے دعا