مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 80
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 80 نے اُس کو اُس وقت مارا تھا ، تو آپ نے اُسے پیار کیا۔مسعود احمد سے کہا ا سے مارا نہ کریں۔“ ایک دن میاں محمد احمد صاحب کو زکام تھا اور وہ دوسری طرف چلے گئے اور آپ کے پاس تمام دن نہیں آئے کہ تکلیف ہوگی۔آپ نے پوچھا کہ ”میاں محمد احمد نہیں آئے اور پھر خود ہی فرمایا کہ اُن کی تو خود کمر میں بہت درد ہے۔اتنے میں امتہ الحمید بیگم آئیں اور انہوں نے کہا کہ اُن کی ( محمد احمد ) کمر میں بہت درد ہے حالانکہ اس بات کا مجھے بھی علم نہیں تھا 66 اور وہ یہی کہہ کر گئے تھے کہ زکام ہے۔وفات سے چھ سات روز پہلے کی بات ہے بار بار فرماتے تھے کہ فتنہ کا بہت ڈر ہے کئی سازشیں ہو رہی ہیں ، بڑا فتنہ ہے۔حضرت صاحب کو اور (صاحبزادہ مرزا) ناصر احمد کو کہنا چاہیئے کہ انتظام کر لیں“ اور پھر جب آنکھ کھلتی اور پھر بیدار ہوتے تو بار بار ہو چھتے تھے کہ " کیا انہیں اطلاع کر دی ہے۔میاں ناصر احمد اور حضرت صاحب کو۔“ ویسے بھی کئی بار بہت زور سے یہی ذکر کرتے تھے گھبرا کر ، آخر پارٹیشن کے وقت یہ فتنہ ظاہر ہو گیا۔(55) چند خوا ہیں رویا و کشوف بڑی بات ہے۔خواہ مخواہ اپنی خوابوں کو اہمیت دے کر