مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 61
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 61 دوسری طرف سے ( جدھر جمعداروں کے گھر تھے اور بٹالے سے آتے ہوئے قادیان میں داخلہ ادھر سے ہوتا تھا گاڑی نکال لو۔ایک صاحب تھے ان کی دکان تھی انہوں نے کہا یہاں سے گاڑی نہیں گزرنے دوں گا۔نا معلوم کیوں غصہ میں بھرے بیٹھے تھے۔میں نے گاڑی پھر والی اور اوپر جا کر دیکھا تو ابھی حضرت اماں جان کے پاس آپ بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا کہ میری گاڑی ان صاحب (نام نہیں لکھتی ) نے گزرنے نہیں دی اُسی وقت کھڑے ہو گئے غصے سے آنکھیں سرخ ہو گئیں کہنے لگئے ”کون روکنے والا ہے تمہاری گاڑی۔“ مجھے ساتھ لے گئے اور وہاں سے گاڑی گز روادی۔(38) حضرت اماں جان سے بچپن سے بہت مانوس تھے اور آپ کی عزت اور محبت ہر وقت آپ کے آرام کا خیال حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے وصال کے بعد بہت بڑھ گیا تھا۔ایک بار حضرت اماں جان بیمار ہوئیں تو مجھے الگ لے جا کر کہا کہ میں بھی دعا کرتا ہوں اور تم بھی کرو اور کرتی رہو کہ اب حضرت اماں جان کو ہم میں سے خدا تعالیٰ کسی کا غم نہ دکھائے۔(39) حضرت اماں جان کے دہلی والے عزیزوں کا بھی خاص خیال رکھتے اور بہت ان کی خاطر داری فرماتے ، جب دہلی جاتے بُلا بلا کر ملتے