مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 45
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 45 نے سفر انگلینڈ میں اپنی نظم ” فراق قادیان میں شامل فرمایا ہے۔یادر ہے کہ یہ شعر واجد علی شاہ، شاہ اودھ یا کسی اور لکھنوی شاعر کا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کی یاد میں اس کو قادیاں لگا کر مگر اس کی اصل بنا کر پڑھا تھا، کوئی اعتراض کر دے بھی ، تو آپ لوگ یہ جواب اور یہ شہادت یا درکھیں۔غرض کوئی اداسی کا ماحول گورداسپور میں ہمارے گھر میں نہ تھا، اسی طرح اوقات فرصت میں ہم لوگوں سے بات کرتے ، سیر کو بھجواتے۔ایک چھوٹی سی بات لطیفہ ہی سمجھ لیں یا د آ گئی ہے وہ بھی سن لیں۔ہمشیرہ امتہ الحفیظ کے لئے ایک کھلائی کا ، آپ علیہ السلام نے کسی احمدی بھائی کو لکھ کر انتظام کروایا تھا، پنڈی سے کسی بھائی نے ایک بہت صاف ستھری ہوشیار عورت کو بھجوادیا تھا، وہ بھی ساتھ تھیں بہت معتبرسی معلوم ہوتی تھیں ، وفا بیگم نام تھا، وعدہ لیا گیا تھا کہ بچی کو چھوڑ کر نہیں جانا ہوگا اور جب تک ہوشیار نہ ہو جائے اس کو پالنا ہوگا ، وفا بیگم نے بڑے وثوق سے عہد کئے تھے کہ ہر گز چھوڑ نہیں جاؤں گی وغیرہ۔کام بھی اچھا کرتی تھیں ، مگر ایک روز صبح دیکھا گیا کہ وفا بیگم چپکے سے رات کو لڑکی کو چھوڑ کر غائب ہو گئیں جب یہ خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوپر پہنچائی گئی تو آپ نے فی البدیہ فرمایا :۔