مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 27 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 27

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 27 پاس تھی ، حضرت اماں جان سامنے کھپریل میں تھیں ، ہماری تائی صاحبہ کی خادمہ خاص (جو تائی صاحبہ کے قریبا ساتھ ہی احمدی بھی ہو گئی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہے ) حضرت اماں جان کے پاس آئی اور اپنی طرف سے عزیز داری سمجھ کر آپ کے پاس ہمارے چچا مرزا امام الدین کی وفات پر اظہار افسوس کرنے لگی جس وقت اس کے منہ سے یہ لفظ نکل رہے تھے کہ :۔وو بڑا ہی چنگا بنده ی وغیرہ " حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر نکلے۔آپ علیہ السلام کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا آپ نے اپنا عصا زمین پر مار کر کہا:۔وو بد بخت تو میرے گھر میں میرے 66 خدا کے دشمن کی تعریف کرتی ہے۔“ ایسا جلال آپ علیہ السلام کی آواز میں تھا کہ وہ سر پٹ بھاگی۔مرزا امام الدین دہر یہ تھے آپ کب گوارا کر سکتے تھے کہ آپ علیہ السلام کے گھر میں ایک دہریہ کی اس قدر تعریف ہو۔ویسے دوسرے عزیز جو محض ذاتی دشمن اور گمراہ تھے ان کی تکلیف میں آپ ہمدردی فرماتے تھے۔حضرت منجھلے بھائی صاحب نے ایک دفعہ نظام الدین کہہ کر بات کی تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ”میاں وہ