مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 107 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 107

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 107 گا۔آپ کے پاس ہی میں کھڑی تھی میں نے اُس بچپن کے طریق سے آپ کو مخاطب کیا اور کہا ابا مجھے بھی دیں ! آپ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے قلم دان کا ٹکڑا مجھے پکڑا دیا اور کہا لو ! میں نے پکڑا تو وہ نہایت سفید دودھ کی مانند ناریل کے ٹکڑوں کی مانند کئی ٹکڑے تھے ، جو مجھ سے سنبھل نہیں رہے تھے ، مگر میں نے گرنے نہ دیا اور گود میں سنبھال لیا، میں بہت خوش تھی اور آنکھ کھل گئی۔آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا ، اُردو اور انگریزی ادب بہت شوق سے پڑھیں دینی کتب کا مطالعہ با قاعدہ کرتیں، کوئی نہ کوئی سلسلہ کی کتاب ہمیشہ آپ کے سرہانے بڑی رہتی۔کچھ صفحات غور سے پڑھ کر پھر بعد میں کوئی نہ کوئی ہلکی پھلکی کتاب شروع کر دیتیں۔قرآن شریف با قاعدگی سے سمجھ سمجھ کر پڑھتیں ، جہاں کوئی مطلب سمجھ نہ آتا ، اُسے بار بار پڑھے جاتیں جب تک اُس کے معنی کھل کر سامنے نہ آجاتے ، غرض حسن و خوبی کے رنگ برنگے خوشبو دار پھولوں سے آراستہ ایک گلدستہ کی مانند تھیں۔لیکن طبیعت میں بے حد عاجزی تھی ، کبھی خود کو کچھ نہیں سمجھا ، ہمیشہ اپنی کم مائیگی کا ہی ذکر کیا۔اپنی اسی عاجزانہ کیفیت میں اپنے خدا کو تڑپ کر پکار۔: