مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 106 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 106

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 106 پڑھ کر یہ احساس ہوتا گویا انسان سمندر کے پانی کی لہروں کے ساتھ بہتا جارہا ہو، ایک بار موسم ابر آلود تھا، ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی ،نرم نرم ہوائیں دل کو چھو رہی تھیں ، اس موسم میں آپ کو ، اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں کی یاد میں تڑپا کر رکھ دیا اور بے ساختہ آپ کے منہ سے یہ اشعار درد کہتا ہے بہا دو خون دل آنکھوں سے تم ضبط کہتا ہے نہیں آہ و فغاں بے سود ہے خوف ہے مجھ کو کہ لگ جائے نہ اشکوں کی جھڑی آج میر ا مطلع دل پھر غبارآلو د ہے اور ادیب بھی آپ با کمال تھیں ، آپ کی تحریریں بہت سادہ ، بے ساختہ اور دل چسپ ہو تیں اور خطوط لکھنے میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا ، بہت مزیدار محط لکھتیں ان خطوط سے بھی آپ کے ادبی ذوق کا پتہ لگتا ہے۔آپ نے ایک بار خواب دیکھا ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام زمین پر فرش پہ تشریف رکھتے ہیں ، اور آپ کے پاس آپ کا لکڑی کا قلم دان رکھا ہے۔۔۔۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس کے پاس میرے قلم دان کا ایک ٹکڑا بھی ہوگا خدا تعالی اس کے علم میں برکت دے