مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 103 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 103

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 103 نڈھال ہو گئیں۔لیکن اس وقت بھی کمال صبر اور حوصلے کا نمونہ پیش کیا ، سب بچے ، عزیز ، حضرت مصلح موعود کے گرد جمع تھے ، آپ کی وفات پر سب ہی تڑپ اٹھے ، رونے لگے ، ان آہوں اور سسکیوں میں ایک شاندار آواز بلند ہوئی کڑا کے دار :۔سنو ! خاموش ہو جاؤ! میری بات سنو، مجھے وہ وقت یاد ہے، یہ وہ ہیں ، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازے پر کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا کہ:۔”اگر سب میرا ساتھ چھوڑ دیں ، میں اکیلا رہ جاؤں تو بھی میں عہد کرتا ہوں کہ اس مشن کو میں پورا کروں گا ، جس کے لئے آپ بھیجے گئے تھے۔“ دیکھو! میری آنکھوں نے دیکھا انہوں نے ہر لحاظ سے اس عہد کو پورا کیا، آخر دم تک اُس عہد پر قائم رہے، دین کی خدمت میں ہی جان دی، اب رونے کا وقت نہیں ، دعائیں کرو اور خدا کے سامنے عہد کرو کہ تم 66 بھی ان کے نقش قدم پر چلو گے ، اب تم پر یہ ذمہ داری ہے۔“ پھر اسی غم سے نڈھال وجود نے اپنے داماد ، بھتیجے ، حضرت خلیفۃ امسیح الثالث کی کھلے دل کے ساتھ بہ رضا ورغبت بیعت کی اور تمام عمر آپ کی کامل اطاعت میں گزاری۔ہر کام میں ان سے مشورہ