محسنات

by Other Authors

Page 98 of 286

محسنات — Page 98

98 وائسرائے سے باتیں کر رہی تھی۔چوہدری صاحب نے کہا کہ آپ سچ مچ ہی کیوں باتیں نہیں کر لیتیں۔انہوں نے کہا کیا اس کا انتظام ہو سکتا ہے۔؟ چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں ہوسکتا ہے۔اس پر انہوں نے کہا بہت اچھا پھر انتظام کر دو۔وائسرے سے ملیں اور چوہدری صاحب تر جمان بنے۔لیڈی ولنگڈن بھی پاس تھیں۔وہ چوہدری صاحب نے صاف کہہ دیا کہ میں نہیں کہوں گا جو کچھ کہنا ہو خود کہنا چنانچہ مرحومہ نے لارڈ ولنگڈن سے نہایت جوش سے کہا کہ ”میں گاؤں کی رہنے والی عورت ہوں میں نہ انگریزوں کو جانوں اور نہ ہی ان کی حکومت کے اسرار کو۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا تھا کہ انگریز قوم اچھی قوم ہے اور ہمیشہ تمہاری قوم کے متعلق دل سے دعائیں نکلتی تھیں۔جب کبھی تمہاری قوم پر مصیبت کا وقت آتا تھا رورو کر دعائیں کرتی تھی کہ اے اللہ تو ان کا حافظ و ناصر ہوتو اُن کو تکلیف سے بچائیولیکن اب جو کچھ جماعت سے خصوصاً قادیان میں سلوک ہو رہا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دعا تو میں اب بھی کرتی ہوں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم ہے لیکن اب دُعا دل سے نہیں نکلتی کیونکہ اب میرا دل خوش نہیں ہے۔آخر ہم لوگوں نے کیا کیا ہے کہ اس رنگ میں ہمیں تکلیف دی جاتی ہے۔چوہدری صاحب نے لارڈ ولنگڈن سے کہا کہ میں صرف تر جمان ہوں۔میں وہی بات کہہ دوں گا جو میری والدہ کہتی ہیں۔آگے آپ خود انہیں جواب دیں۔۔اس سیدھے سادے اور باغیرت کلام کا اثر لیڈی ولنگڈن پر تو اس قدر ہوا کہ اُٹھ کر مرحومہ کے پاس آ بیٹھیں اور تسلی دینی شروع کی۔اور اپنے خاوند سے کہا کہ یہ معاملہ ایسا ہے جس کی طرف تم کو خاص توجہ دینی چاہئے۔“ چنانچہ حضرت مصلح موعود اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔کتنے مرد ہیں جو اس دلیری سے سلسلہ کے لئے اپنی غیرت کا اظہار کر سکتے