محسنات

by Other Authors

Page 79 of 286

محسنات — Page 79

79 کلاس کا یہ سلسلہ بفضل تعالیٰ اب تک جاری ہے۔ہر سال ربوہ اور بیرون ربوہ (پاکستان) سے شامل ہونے والی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کلاس میں 1982 ء میں 100 طالبات شامل ہوئیں۔1986ء یہ تعداد دگنی ہوگئی۔1997ء میں 415 طالبات شامل ہوئیں۔1999ء میں 838 طالبات اور 2000ء میں 11 9 طالبات نے تعلیم دین حاصل کی۔جامعہ نصرت : 1947ء میں جماعت کو اپنا مرکز چھوڑنا پڑا اور 1949ء میں ربوہ آباد ہونا شروع ہوا۔1950ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے جامعہ نصرت کے آغاز کا اعلان فرمایا اور اس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا :- یہ کالج میں نے اس لئے کھولا ہے کہ اب دین اور دُنیا کی تعلیم چونکہ مشترک ہو سکتی ہے۔اس لئے اسے مشترک کر دیا جائے۔اس کا لج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہو سکتی ہیں۔کچھ تو وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیوی کام کریں۔اور کچھ وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کر کے دین کی خدمت کریں۔میں دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت بھی دُنیا سے الگ نہیں ہو سکتی اور دنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔( دینِ حق ) نام ہے خدا تعالی کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا۔اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دنیوی چیز ہے پس جب ( دینِ حق ) دونوں چیزوں کا نام ہے اور جب وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کا کام کرے اور وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرے۔دونوں اپنے آپ کو ( دین حق) پر کہتی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دنیا کا کام کرے اسے معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بھی دین کا حصہ ہے اور جولڑ کی اس