محسنات

by Other Authors

Page 57 of 286

محسنات — Page 57

57 اس صدمہ جانکاہ کے موقع پر اس طرح کے الفاظ ایک قانتہ ،صالحہ اور متقیہ کے سوا اور کسی کے بس کی بات نہیں۔اسی قابل رشک خاتون کے جگر گوشہ نے جس استقامت اور عزم کا اظہار کیا وہ بھی رہتی دنیا تک تاریخ احمدیت میں منفر داور قابل تقلید واحد مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رہے گا۔لکھا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اس موقعہ پر نہ صرف صبر کا عدیم النظیر نمونہ دکھایا بلکہ سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت مسیح موعود کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا کہ اگر سارے لوگ بھی آپ کو چھوڑ دیں گے اور میں اکیلا رہ جاؤں گا تو میں اکیلا ہی ساری دنیا کا مقابلہ کروں گا اور کسی مخالفت اور دشمنی کی پرواہ نہیں کروں گا۔“ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 554) غرضیکہ حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کا مقامِ رضا بالقضا بے مثال ہے۔مکرم محمود احمد صاحب عرفانی لکھتے ہیں:۔حضرت اماں جان کی زندگی میدانِ کربلا کی زندگی ہے۔آپ کی زندگی انبیاء کے ابتلاؤں کی زندگی تھی۔اور ان ابتلاؤں میں حضرت اماں جان برابر کی شریک تھیں۔خدائے تعالی کی بشارتیں تو سہارا اور تسلی کا ذریعہ تھیں مگر جیسے حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ نے ابتدائی عہد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ٹھیک اسی طرح پر حضرت اماں جان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے مایہ رحمت و اطمینان ہوتی تھیں۔بڑے بڑے معر کے آپ کی آنکھوں کے سامنے پیش آئے۔مگر حضرت اماں جان تمام حالات میں ایک قلب مطمئنہ کے ساتھ طوفان میں چٹان کی طرح رہیں۔بیرونی حوادث اور زلازل کے علاوہ گھر میں بعض واقعات اموات کے ہوئے وہ معمولی نہ تھے۔ہرایسی موت پر مخالفین کی طرف سے وو