محسنات — Page 262
262 ساتھ نہیں چھوڑتی تھی۔جو اس زندگی میں مزہ ہے وہ ہر وقت متحرک رہنے سے بے چین رہنے میں کہاں نصیب ہوسکتا ہے؟ (دخت کرام صفحہ 196) حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ علم وادب کا ایک سمندر تھیں فرمایا کرتیں کہ قرآن کریم پڑھتے ہوئے کسی لفظ کے ترجمہ کے متعلق طبیعت رکتی ہے تو میں لغت دیکھتی ہوں اور وہی معنی درست ہوتے ہیں جو میں سمجھتی ہوں۔آپ کے کلام کو پڑھنے سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مقصود شعر گوئی نہیں بلکہ ضرورت پر اپنے جذبات کو نظم میں ظاہر کر دینا ہے۔آپ کا کلام تصنع سے پاک ہے۔آپ نے کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی۔آپ کا کلام نہایت موثر اور دلنشین ہے۔آپ کا مجموعہ کلام در عدن کے نام سے شائع ہوا جو شعر و ادب پر آپ کی قدرت کلام کا نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔اشعار نہایت پاکیزہ، عشق خدا اور عشق رسول کے آئینہ دار ہیں۔آپ کے اشعار پڑھ کر انسان بے اختیار عش عش کر اٹھتا ہے۔نمونہ کلام : مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں جو خلوص دل کی رمق بھی ہو ترے اڈ عائے نیاز میں تیرے دل میں میرا ظہور ہے ترا سر ہی خودسر طور ہے تری آنکھ میں مرا نور ہے مجھے کون کہتا ہے دُور ہے مجھے دیکھتا جو نہیں ہے تو، یہ تری نظر کا قصور ہے مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تری جبینِ نیاز میں مجھے دیکھ رفعت کو ہ میں مجھے دیکھ پستی کاہ میں