محسنات — Page 254
254 بھینس رکھنے کا بہت شوق تھا اور صبح کے وقت بڑی کثرت سے لوگ چھاچھ لینے آیا کرتے تھے۔جو لوگ زیادہ غریب یا معذور ہوا کرتے تھے ان کی چھاچھ میں مکھن بھی ڈال دیا کرتی تھیں۔خود تلاش کر کے ضرورت مندوں کی ضرورت پورا کرنے کی کوشش کرتیں اور چونکہ تحریک جدید کے اجراء کے بعد خاص طور پر حضور کی طرف سے خرچ نپا تلا ماتا تھا۔اس لئے مالی لحاظ سے ہمیشہ تنگ رہتی تھیں۔ایک طرف جماعتی چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا شوق دوسری طرف یہ بے قرار تمنا کہ ہر حاجت مند کی حاجت پوری کر دوں اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا تھا کہ اپنے گھر میں خوب ہاتھ گس کر خرچ کریں۔پس کچھ تو روز مرہ کے کھانے کا معیار گرا کر چندوں ، خدمت خلق اور مہمان نوازی کے لئے بچت کر لیتیں اور کچھ ہمارے کپڑوں کے خرچ میں سے اس غرض کے لئے پیسے بچا لیتی تھیں۔تحریک جدید کا بہانہ ہاتھ آیا ہوا تھا چنانچہ کپڑے سادہ ہی نہیں بلکہ تعداد کے لحاظ سے بھی واجبی بناتی تھیں۔کئی دفعہ غریب لڑکیوں کی خود شادیاں کیں۔بعض یتیموں کی پرورش کی۔روزمرہ کے طور پر مختلف رنگ میں امداد کا سلسلہ تو جاری رہتا ہی تھا۔خفیہ بھی اور اعلانیہ بھی ! گھر کے مستقل خرچ کے علاوہ جو حضور کی طرف سے ملتا تھا ذاتی آمدنی بہت معمولی تھی۔( ان کا کچھ روپیہ حضور نے کہیں تجارت پر لگا رکھا تھا۔) اس لئے اکثر مالی مشکلات میں مبتلا رہتی تھیں۔مگر اللہ تعالیٰ پھر بھی غیب سے سامان کرتا رہا اور جیسے کیسے بھی بن پڑا انفاق کا سلسلہ جاری رکھا۔اللہ تعالیٰ پر بہت تو کل تھا اور اُس رحیم وکریم نے اپنے در سے کبھی خالی نہیں لوٹایا۔وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ کی ایک زندہ تصویر تھیں۔اگر کسی ضرورت مند کو دینے کے لئے خود اپنے پاس کچھ نہ ہوتا تو بعض دوسرے متمول دوستوں کو توجہ دلا کر امداد کی صورت نکال لیتی تھیں۔اگر کوئی راہ نہ