محسنات

by Other Authors

Page 208 of 286

محسنات — Page 208

208 حضرت خلیقہ مسیح اثالف نے 19 دسمبر 1965ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود کے سنہری کارناموں اور ان گنت احسانون کی یادگار کے طور پر پچیس لاکھ روپے کا ایک فنڈ قائم کرنے کی تحریک کی۔جس کا نام ”فضل عمر فاؤنڈیشن“ رکھا گیا۔جماعت نے قلیل عرصے میں 34 لاکھ کی رقم پیش کر دی احمدی خواتین نے بھی حضرت مصلح موعود کے ساتھ اپنی محبت کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے اس تحریک پر والہانہ لبیک کہا اور مالی قربانی کے بے نظیر نمونے پیش کئے۔اس فنڈ کی آمد سے حضرت مصلح موعود کے جاری کردہ عظیم الشان ( دوش بدوش صفحه 53) کاموں کی تکمیل ہوتی ہے۔( بیت ) نصرت جہاں کو پن بیگن (ڈنمارک) کی تیسری (بیت) خالصتاً احمدی عورتوں کے چندہ سے تعمیر کی گئی۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 27 ستمبر 1964 ء کو یہ تحریک حضرت مصلح موعود کی منظوری سے پیش کی۔اور حضرت فضل عمر کے عظیم احسانات خصوصاً طبقہ نسواں پر کی یادگار کے طور پر ایک (بیت) کی تعمیر کا خیال اور خواہش کا اظہار فرمایا۔مئی 1966ء کو صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے اس کا سنگ بنیاد رکھا جب کہ 6 21 جولائی 1967ء کو حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث نے اس کا افتتاح فرمایا۔اس ( بیت ) کے لئے صرف خواتین نے چھ لاکھ چھ ہزار کی رقم جمع کر کے عظیم الشان مالی قربانی کا ثبوت فراہم کیا۔( دوش بدوش صفحه 55) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے 1970ء میں مغربی افریقہ کے دورہ کے بعد نصرت جہاں ریز روفنڈ کی تحریک فرمائی تا کہ افریقہ کی مظلوم اور غریب اقوام کے لئے ہسپتال، اسکول اور ڈسپنسریاں کھولی جائیں چنانچہ حسب سابق احمدی عورتوں نے مردوں کے دوش بدوش لاکھوں روپے چندہ دیا اس فنڈ سے قرآن کریم کی ستائیس ہزار جلدیں مع انگریزی ترجمہ افریقہ کے چھ ممالک میں بھجوائی گئیں۔کئی اعلیٰ دو