محسنات

by Other Authors

Page 18 of 286

محسنات — Page 18

18 کیفیت محسوس کرتے۔بلکہ ان نوافل کے علاوہ بھی جب موقع ملتا نماز میں دل کا سکون حاصل کرتی تھیں۔میں پوری بصیرت کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آنحضرت ملالہ پیارا قول کہ ”میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے، یہی کیفیت حضرت سیدہ اماں جان کو اپنے آقا سے ورثے میں ملی تھی۔یہاں تک کہ چھٹی کے دنوں میں بھی نماز کا وقت باتوں میں ضائع نہیں فرماتی تھیں بلکہ مقررہ اوقات میں تنہا ٹہل کر دُعا یا ذکر الہی کرتی تھیں۔دُعاؤں میں بہت شغف رکھنے والی تھیں۔آپ کبھی بھی نماز جلدی جلدی ادا نہیں فرماتی تھیں۔نماز کے علاوہ دوسرے اوقات میں بھی بہت دعائیں کرتی تھیں۔اپنی اولا داور ساری جماعت کے لئے جسے وہ اپنی اولاد کی طرح ہی سمجھتی تھیں۔بڑے درد و سوز کے ساتھ دعا فرماتی تھیں۔( دین حق ) اور احمدیت کی ترقی کے لئے آپ کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی۔اپنی ذاتی دعاؤں میں جو دعا سب سے زیادہ آپ کی زبان مبارک پر آتی وہ یہ مسنون دعا تھی۔”اے میرے زندہ خدا اوراے میرے زندگی بخشنے والے آقا ! میں تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتی ہوں۔“ ( ہر اول دستہ صفحہ 24-23) ہر وقت شکر کے کلمات آپ کی زبان سے جاری رہتے۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی یہ تمام عبادت و ریاضت ان مصروفیات کے باوجود تھی جو گھر کے اعلیٰ انتظام اور مہمانداری کے سلسلے میں روز و شب جاری رہتی تھیں۔ابتداء میں کافی عرصہ تک آپ خود ہی تمام مہمانوں کے لئے جو کبھی کبھار تعداد میں 100 بھی ہو جاتے تھے کھانا پکاتی تھیں۔اور کئی مہمانوں کے مزاج کے مطابق الگ کھانا بھی پکوالیتیں۔