محسنات — Page 153
153 بناڈالی۔اس سڑک کا گاؤں والوں کو بہت فائدہ ہورہا ہے اور ان کا احساس تشکر بیدار ہو رہا ہے جسکے نتیجے میں احمدیت کی طرف انکی توجہ مبذول ہورہی ہے چنانچہ یہ سڑک بنانے کے بعد اب تک اس گاؤں میں 500 احمدی ہو چکے ہیں۔احمدی خواتین کسی بھی ملک سے تعلق رکھتی ہوں ہمارے مذہب کی تعلیم ہے کہ خدا کے بعد اللہ کے بندوں کی خدمت کرو۔اس کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا دنیا کے ہر ملک میں لجنات ایسے گھروں کو تلاش کریں اور غریب، گندے گھر والوں کو رہن سہن کے طریق سکھائیں۔۔دینی خدمت کے لئے کسی گہرے علم کی ضرورت نہیں اس ضمن میں حضور نے ایک نیک خاتون کی مثال بیان فرمائی اور فرمایا حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ بظاہر ان پڑھ تھیں لیکن ان کی سادہ باتیں سن کر کثرت سے خواتین احمدی ہوتی تھیں۔ایک عورت نے ایک دفعہ کہا کہ بتائیں یہ علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا۔آپ کی بات میں اثر کہاں سے آیا ؟ انہوں نے کہا کہ دو باتیں بتاتی ہوں ایک یہ کہ میں اللہ سے ڈرتی ہوں اور دوسرے یہ کہ میں اللہ سے محبت کرتی ہوں“۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ اتنی عظیم الشان بات ہے کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں کہ کس طرح ساری زندگی کے لئے یہ رہنما اصول طے ہو سکتا ہے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قلوب کو فتح کئے بغیر اذہان کی فتح نہیں ہو سکتی۔یہ عذر کہ آپ کی تعلیم کم ہے اور زبا نہیں نہیں آتیں۔اول تو زبانوں کی طرف توجہ کریں۔پھر یہ بات یادرکھیں کہ اللہ کی محبت کا جواثر ہے وہ اسطرح ہوتا ہے کہ زبان خاموشی میں بھی اثر کرتی ہے۔(ماخوذ الفضل مورخہ 25 راگست 1998ء صفحہ 7،4،3 کالم نمبر 4) ایک خوش نصیب داعی الی اللہ : کراچی کی سیکریٹری اصلاح وارشاد محتر مہ حور جہاں بشری داؤ د ایک پاکباز،