محسنات — Page 145
145 گی۔۔آپ کے نام بھی لکھی جائیں گی۔اگر مرد پوری توجہ سے کام نہیں کر ر ہے تو عورتیں ہی یہ کام کرنا شروع کر دیں۔بسا اوقات تاریخ ( دین حق ) میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جہاں مرد پیچھے رہ گئے وہاں عورتیں آگے بڑھیں اور ان کا نمونہ دیکھ کر پھر مر دوں کو بھی ہوش آ گئی۔حضور انور نے حضرت فضل عمر کا بیان کیا ہوا ایک ایمان افروز واقعہ سنایا:- ایک احمدی عورت روشنی کا مینار : چک منگلا اور پنڈ بھروانہ یہ علاقہ خدا کے فضل سے ترقی کر رہا ہے اور یہی وہ بہادر لوگ ہیں جن کی عورت کی مثال میں نے کل اختتامی تقریر میں بیان کی تھی وہ بیعت کرنے یہاں آئی ہوئی تھی شام کو اُس کی بیٹی بھی یہاں آگئی اس نے کہا اماں تو نے مجھے کہاں بیاہ دیا ہے وہ لوگ تو میری بات سنتے ہی نہیں۔تو نے مجھے جو کتا ہیں دی تھیں میں اُن کو پڑھ کر سناتی ہوں تو وہ سنتے ہی نہیں۔میں احمدیت پیش کرتی ہوں تو وہ ہنسی مذاق کرتے ہیں اور مجھے پاگل قرار دیتے ہیں وہ عورت کہنے لگی بیٹی تو میری جگہ آ کر اپنے والد اور بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی روٹی پکا۔میں تیرے سُسرال جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون میری بات نہیں سنتا میں ان سب کو احمدی بنا کر دم لوں گی۔شاید یہی عورت جلسہ سالانہ سے چند ماہ قبل آئی تھی اُس کے پاس ایک بچہ تھا اُس نے مجھے بتایا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے وہ ربوہ نہیں آتا تھا۔میں اُس کا بچہ اٹھالا ئی ہوں کہ وہ اس بچہ کی وجہ سے تو ربوہ آئے گا۔مجھے کسی نے بتایا کہ اُس کا بھائی احمدیت کے قریب ہے لیکن چوہدری فتح محمد سیال صاحب نے خبر دی ہے کہ اللہ کے فضل سے اب وہ احمدی ہو چکا ہے تو اس طرح ایک احمدی خاتون پورے خاندان کے لئے، در حقیقت اُس سارے علاقے کے لئے ایک روشنی کا مینار بن گئی۔اگر کوئی عورت دعوت الی اللہ کرنا چاہے اور دُعا کرے اور اخلاص کے ساتھ کام کرے تو یقینا وہ پچھل سے محروم نہیں رہے گی۔“