محسنات — Page 137
137 ساری زندگی کی ، جوانی دین کے حضور پیش کر دی اور سارے دُکھ خود اٹھائے اور خاوند کو بے فکر کر کے دین میں چھوڑ دیا۔(اس کے برعکس آج کے زمانہ میں ایسے واقفین ہیں کہ جب وہ باہر آتے ہیں اور جماعت کے صدقے انہیں مقامی نیشنلٹی (Nationality) نظر آنے لگتی ہے تو آنکھیں پھیر لیتے ہیں اور اس میں بڑی حد تک (۔۔۔۔۔۔بیویاں ذمہ دار ہوتی ہیں۔اور اس ضمن میں بیویاں ایک غیر معمولی کردارا دا کرسکتی ہیں اور یہ وہ ہیں جن کے متعلق تاریخ خاموش رہ جاتی ہے تو آپ لوگ متعجب نہ ہوں کہ میں نے آج کیوں خصوصیت سے اُن کا ذکر کیا ہے۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احمدیت کی تاریخ میں کچھ باب ہیں جو سیاہی سے لکھے جارہے ہیں۔کچھ اُن کے پس منظر میں روشنائی سے لکھے جانے والے ایسے ابواب بھی ہیں جن کو ظاہری آنکھ نہیں دیکھ رہی۔کتنی قربانی کرنے والی عورتیں ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں ڈھال دیں اور زندگی کے آرام تج دیئے اور بڑے صبر کے ساتھ اپنے دکھوں کو اپنی حد تک اپنی چھاتیوں میں محفوظ کئے ہوئے وہ وفا کے ساتھ سلسلہ کی خدمت پر قائم رہیں۔بلکہ خاوندوں کو قائم رکھا۔اور جب اُن میں کوئی کمزوری آئی تو اُٹھ کھڑی ہوئیں اور کہا خبر دار ” یہ وہ رستہ ہے جس سے واپسی کا کوئی سوال نہیں۔“ (مصباح جنوری 1993ء) محترمہ رضیہ در دصاحبہ کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہے کہ آپ کے والد ماجد حضرت مولانا عبدالرحیم در دصاحب صف اوّل کے واقفین زندگی میں سے تھے۔خاوند مکرم محترم مسعود احمد عاطف صاحب واقف زندگی تھے۔دونوں بیٹے مکرمہ حامد مقصود عاطف صاحب اور ڈاکٹر محمود احمد عاطف واقف زندگی ہیں۔داماد