محسنات — Page 118
118 دیا ہے کہ یوں کرو اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے دل میں اپنی والدہ کا جو ایک خاص مقام تھا اس کے پیش نظر انہوں نے مناسب سمجھا کہ میں ان سے بھی مشورہ کر لوں اس کے جواب میں حضرت اماں جان نے لکھا: - خط تمہارا پہنچا۔سب حال معلوم ہوا۔مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاول ) کا مشورہ ہے کہ پہلے حج کو جاؤ اور میرا جواب یہ ہے کہ میں تو دین کی خدمت کے واسطے تم کو اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دے چکی ہوں اب میرا کوئی دعوی نہیں وہ جو دینی خدمت کو نہیں گئے بلکہ سیر کو گئے ان کو خطرہ تھا اور تم کو کوئی خطرہ نہیں۔خداوند کریم اپنے خدمت گاروں کی آپ حفاظت کریگا۔میں نے خدا کے سپر د کر دیا۔“ یہ وہ روح تھی جس روح نے آگے احمدی خواتین میں پرورش پائی ہے اور نشو ونما کے نتیجے میں خوب پروان چڑھی ہے۔اب بعض دوسری خواتین کے تعلق باللہ اور دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے چند واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سب سے پہلے حضرت سید عبداللطیف (قربان راہِ مولا ) کے بارے میں تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 349 میں درج ہے کہ جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو قربان کر دیا گیا تو حکومت افغانستان کی طرف سے آپ کی اہلیہ اور بچوں پر بہت مظالم ڈھائے گئے اُن کو ایک جگہ نظر بند کر دیا گیا وہ ایسے مظالم ہیں کہ ان کے ذکر سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔مگر انہوں نے قابلِ رشک صبر واستقلال کا نمونہ دکھایا۔آپ کی اہلیہ ہر موقع پر ہی فرماتی رہیں۔اگر احمدیت کی وجہ سے میں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے قربان کر دیئے جائیں تو اس پر خدا تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہوں گی اور بال بھر بھی اپنے عقائد میں تبدیلی نہ کروں گی۔پس جیسا وہ عظیم خاوند تھا ویسی ہی عظیم اُن کی بیگم تھیں اور ماں کا اپنے بچوں