محسنات — Page 117
117 کہ ان کی قربانیاں لوگوں کے سامنے چلتی پھرتی ہیں اور دکھائی دیتی ہیں ہماری خواتین کی قربانیاں پس پردہ ہیں اس میں دکھاوے کا کوئی بھی دخل نہیں اور خدا کے حضور وہ قربانیاں پیش کرتی چلی جاتی ہیں آپ کی اگلی نسلوں کی قربانیوں کی روح کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے علم میں ہو کہ ان کی مائیں کیا تھیں۔ان کی بہنیں کیا تھیں۔ان کی نانیاں دادیاں کیا چیز تھیں۔کس طرح اُنہوں نے احمدیت کی راہ میں اپنے خون کے قطرے بہائے اور اس کی کھیتی کو اپنے خون سے سیراب کیا۔اس لئے میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ مضمون اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ( دینِ حق ) میں عورت کا مقام سمجھنے میں بھی دنیا کو مدد دے گا اور احمدی خواتین میں بھی ایک نئی خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ہماری موجودہ نسلیں بھی پرانی نسلوں کی عظمتوں سے حصہ پائیں گی یا حصہ پانے کے لیے نیا ولولہ پیش کریں گی اور آپ کی قربانیوں سے حصہ پانے کے لئے اور آپ کی تقلید کے لئے اگلی نسلوں میں ولولہ پیدا ہوگا۔جہاں تک وقف اور وقف کی رُوح کا تعلق ہے کس طرح احمدی مائیں اپنے بچوں کو وقف کرتی ہیں یا اپنے خاوندوں کو خدا کے حضور پیش کرتی ہیں یا اپنے بیٹوں کو پیش کرتی ہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جس رنگ میں آپ کی تربیت فرمائی اور وہ تربیت جس طرح زندگی کا ایک دائمی نقش بن گئی اس کا نمونہ ایک خط کے جواب کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جو اس وقت صاحبزادہ محمود احمد کہلاتے تھے اُنہوں نے حضرت خلیفتہ اسیح الاول کے ایک مشورہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اماں جان کو لکھا کہ بتائیے آپ کا کیا منشاء ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل نے ایک مشورہ