حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 90
مصباح ریوه 9۔90 دسمبر ۱۹۹۳ء کہ یہ جوتے نہیں تمہیں ضرور دلاؤں گا۔چند لمحے خاموش تھا۔ایک سیرت کانفرنس ملی بشری جانِ محفل رہنے کے بعد ابا جی کو دیکھنا اور کہا بن گئی۔تقریر کے بعد جس کا موضوع تھا آنحصور اچھا ابا جی آپ ساتھ انشاء اللہ تو کہیئے۔صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طبقہ نسواں پیمر ایا جی کو بچی پر اس قدر پیار آیا کہ اسی وقت گود احسانات “۔سندھ کی روایات کی امیر خواتین میں اٹھایا اور جوتے دلا دیئے۔پیسوں کا جو بھی خاص طور پر بیٹری کے ارد گرد جمع ہو گئیں اور نتظام ہوا یہ اُس ننھی جان کے اپنے خدا سے پیار بتایا کہ یہ تعلیم کسی قدر پیاری ہے۔مگر ہمارے سے ہوا۔جس نے ہر طرف سے نا امید ہو کہ انشاء اللہ علاقے میں عورت کی حیثیت بہت کمتر سمجھی جاتی ہے۔بعض خواتین نے اپنے حالات بھی سنائے اور پھر سلسلہ چل نکلا کہ جو ایک دفعہ بشری سے مل لیتا اُسی کا ہو جاتا۔بڑے دلچسپ کہلایا تھا۔آل پاکستان ورکنگ ویمین ایسوسی ایشن ہم اس ایسوسی ایشن کے ممبر بنے اور اس کی تبصرے موصول ہوئے جن میں ایک یہ تھا کہ تقریبات میں شامل ہوئے حکمت سنوری صاحبہ کے کسی طرح آپ یہ تقریر ہمارے مردوں کے سامنے اعلیٰ عہدے داران کی بیگمات سے تعلقات محبت سے بھی کریں۔کئی نئے راستے کھلے اور ہماری خواتین میٹنگ میں تعلیم یافتہ خواتین جمع ہو تیں۔ان کے لئے کے دائرہ ائمر میں اضافہ ہوا۔کار آمد پروگرام ترتیب دینے میں بشری کا بھی حقہ اخلاق حسنہ سیکھو ایک دوسرے کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آؤ۔کسی کی غیبت نہ کرو کسی کے مال میں خیانت نہ کرو۔کسی سے بغض اور کینہ نہ رکھو۔عورتوں میں مچغلی اور غیبت کی مرض بہت پائی جاتی ہے۔اگر کسی کے متعلق کوئی بات سُن لیں تو جب تک دوسری کے سامنے بیان نہ کر دیں۔انہیں چین نہیں آتا۔جو بات سُنتی ہیں جھٹ دوسری کے سامنے بیان کر دیتی ہیں۔حالانکہ چاہیے یہ کہ اگر کوئی بھائی بہن کا نقص اور عیب بیان کرے تو اُسے منع کر دیا جائے۔لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔چغلی کرنا بہت بڑا عیب ہے۔) الازهار لذوات الخمار )