حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 84
مصباح ریون ۸۴ دسمبر ۱۹۹۳ء میاره که مسعود وہ امر اَمر ہوگئی میری بھانجی کا نام حضرت امام جماعت احمدیہ تیار کیا۔باقاعدہ اجلاس ہونے لگے۔حوری کی خوش اخلاقی الثانی نے نور جہاں رکھا۔ہماری بڑی بہن بلقیس جہاں اور ملنساری میں مقناطیسی کشش تھی۔اس کا حلقہ نے بشری رکھا۔شروع میں وونوں نام چلتے تھے۔مگر احباب وسیع تھا جس میں جماعت کی تخصیص نہ تھی۔گھر جب حضرت امام جماعت احمدیہ الثالث نے بشر کی داؤد پریری و مونتی کمرتی مشکل کام خود اپنے ذمے لیتی اجلاس لکھا تو یہی نام زیادہ معروف ہو گیا۔وغیرہ پر لانے لے جانے کے لئے کو دونوں میاں بیوی ہر دم تیار بشری بچپن سے ہی ہوشیار ، ہونہار اور رہتے۔یہی نہیں بیماروں اور مسافروں کی خدمت کرنا بھی ، ذہین تھی۔چار سال چار ماہ اور چار دن کی عمر میں دونوں کا شعار تھا۔گھر پر رکھنا، کھلانا ، پلانا ، آرام دینا قاعدہ شروع کیا اور پونے چھ سال میں قرآن پاک شاپنگ کروانا تحفے تحائف دے کر رخصت کرنا معمولات مکمل پڑھ لیا۔رام سوامی کے سکول میں ابتدائی تعلیم میں شامل تھا۔حاصل کی۔بی ایس سی گورنمنٹ کالج فار ویمین سے ایک واقعہ بطور خاص یاد آرہا ہے۔ایک عمر رسیدہ کیا۔ایم ایس سی بیالوجی کراچی یونیورسٹی سے کیا۔خاتون پاکستان سے اپنے بیٹے کے پاس آئی ہوئی تھیں۔تعلیم میں اچھے نتائج کے ساتھ ساتھ اُس نے گھرداری بشری کو بزرگوں کی خدمت کی حمص رہتی ضعیف خانوں کے سارے ہنر سیکھے اور سکھائے۔ناصرات ولجینہ کو گھر لے آئی۔نہلایا دھلایا ، گرم دودھ پلایا۔اور اپنی کا کام سرگرمی سے کیا۔گھر کے مرقمت وغیرہ کے کئی اتی کا بھیجا ہوا گرم کوٹے اسے پہنا دیا۔میں نے کہا بشری یہ نو آپا جان نے بہت چاہت سے تمہارے لئے بھیجا تھا۔کام وہ خود ہی کر لیتی۔میں ایران میں تھی جب شادی کے بعد بشری ایران یشری نے میری طرف بڑے پیار سے دیکھا اور کہا، میری آئی ہم تہران میں رہتے تھے۔بشری کے آنے پر پاس ہیمہ پیاری سی تعالہ جان اللہ تعالیٰ بہت دے گا۔شادی صاحب صدور اینہ کراچی کا خط وہاں کے امیر صاحب کو ملا کہ کے کپڑوں کا بھرا ہوا اٹیچی کیس ضرورت مند بچیوں میں نٹری سے خوب کام لیں یہ با صلاحیت لڑکی ہے۔چنانچہ تقسیم کے لئے دے دیا۔وہاں لجنہ کی تنظیم قائم کی۔جنگی امیر صاحب صدر بشری اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جن کا ما حصل جنرل سیکرٹری اور خاکسار سیکریٹری تعلیم وتربیت مقرر یہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی دولت کو خدا تعالی کی خوشنودی ہوئیں۔ہمارے پاس جماعتی کتب نہ تھیں۔خود ہی نصاب حاصل کرنے کے لئے بغیر ملال کے شوق سے لٹا دیتی