حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 78 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 78

مصیاج دیوه LA 78 دسمبر ۱۹۹۳ء بیٹری آئٹی کی شخصیت یوں تو اخلاق فاضلہ اس فانی دنیا سے اٹھ گئیں تو تمام دنیا نے جہاں جہاں سے پر تھی۔خدمت خلق جماعتی امور میں انتھک حضرت امام جماعت احمدیہ کا خطبہ جمعہ دیکھا اور سنا مصروفیات ، سیرت نیومی پر ہے یہا علم جماعتی بنیادی جاتا ہے۔یہ مظاہرہ دیکھا کہ امام وقت نے اس عقائد پر عبور لیکن ان کی حس خوبی نے دلوں کو تسخیر پاکیا نہ مستی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا وہ انداز بیان اور کھنکتا ہوا خوبصورت لہجہ تھا۔کیا۔بچے ہے ہم جیسے گنا ہوگا۔تو اس مقام کا بچپن میں جبکہ ہمیں ناصرات الاحمدیہ کی رکن بھی اجتماعات تصور بھی نہیں کر سکتے۔واقعی وہ چہیتی تھیں اور جلسوں میں آنٹی سے ملاقات ہوتی رہی کو کہ یہ ملاقات سرسری سی ہوتی تھی لیکن ان کی شخصیت کا اپنے خاندان کی ، اپنی لجنہ کی، اپنے امام کی اور اپنے خدا کی ، تبھی تو اس قدر جلد اللہ کو پیاری ہو گئیں۔اثر دکھانے کے لئے کافی ہوتی تھی۔یعنی آپ نے صرف سلام کیا اور جواباً پورا سلام ، کیا حال ہے چاند د چہرے کو پیار سے تھپتھپاتے ہوئے) کیسے ہو؟ ٹھیک ٹھاک ہو ؟ یعنی کہ حد درجہ مصروفیت کے باوجود جواب ہمیشہ ایسا ہی دلنشیں ہوتا تھا کہ ہم جیسوں کی شوم سرشار ہو جاتی تھی۔تصحیح مصباح ستمبر ۱۹۹۶ صفحہ ۴۳ پر نام اور عموما سالانہ اجتماعات کے موقع پر جو کہ صبح رشته غلط شائع ہو گیا ہے۔اس کو اس طرح سے شام تک جاری رہتے ہیں۔خواتین کچھ اپنی فطرت کی بناء پر اور کچھ بچوں کے ساتھ کی وجہ سے آخری ایک پڑھا جائے۔محترمہ سعیدہ نصرت را تا صاحبہ المیہ مکرم آدھ گھنٹوں میں انتظامی مسائل پیدا کر دیتی ہیں یعنی را نا محمد سرور ارشد صاحب سول آفیسرز کالونی ادکاره جلسہ کی کارروائی میں کم اور خانی گفتگو میں زیادہ دلچسپی اپنی چھوٹی بہن طاہرہ پروین کا نکاح مکرم مرزا لینا شروع کر دیتی ہیں۔ایسے مواقع پر آنٹی بشری کی تقریہ ذوالفقار احمد کے ساتھ ہونے پر رشتہ کے بابرکت شہروں ہوتے ہیں حاضرین پر مشتمل سکوت طاری ہو جانا اور ہونے کے لئے درخواست دعا کہتی ہیں۔سب ہمہ تن گوش ہو کر ان کی پُر مغز گفتگو سُنتے پر مجبور ہو جاتے۔انداز بیان کی دلکشی ، لہجہ کی نرمی ، کی بجائے مظفر احمد پاننا پڑھا جائے۔الفاظ کی روانی اور سلاست۔الغرض تمام خوبیوں سے اسی طرح صفحہ ۷ ۴ پر رضیہ بشیر کی بجائے پر وہ تقریہ تمام حاضرین کے دلوں میں اکثر نے لگتی۔شبیر پڑھا جائے۔کس قدر خوش قسمت تھیں وہ خاتون کہ جب تک زندہ رہ ہیں جماعت کی آنکھوں کا تارا بنی رہیں اور جب ه صفحه اہم سطر ۱۰ میں منظور احمد پاشا و اداره ) ) ) ) ) ) ) ) ) )))