حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 77 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 77

مصباح ریوه محترمه طیبه منیر صاحبہ - کراچی 77 منتقد پر ہو تو اک سے پوچھوں کہ اے ٹیم 4 د نمبر ۱۹۹۳ د گذشته سال ہماری قیادت کے سالانہ اجتماع اس حوالے سے وہ مجھے ہمیشہ چھوٹے بھائیوں کی طرح کے موقع پر آنٹی بہتری کے ہاتھ میں ایک فائل دیکھی عزیز رہا۔پھر پتہ چلا کہ وہ آنٹی بشری کا بیٹا ہے تو جس پر خیلی حروف میں NASIR لکھا ہوا تھا۔اتنے یہ انسیت اور بڑھ گئی۔میں میری دوست نے کہا ارے یہ تو ناصر کی اٹھی ہیں۔جی ہاں ! وہی آنٹی بشری ، میری آئیڈیل شخصیت دیکھو کس قدر مشابہت ہے یکیں نے غور کیا تو یقین میری ہی کیا مجھ جیسی بہت سوں کی آئیڈیل جن کی ہو گیا۔بصد احترام بشری آنٹی کے پاس گئی۔پوچھا۔ملکوتی مسکراہٹ یوں اثر کرتی کہ اس کپر نور چہرے آنٹی ناصر آپ ہی کا بیٹا ہے۔انہوں نے مسکراتے ہوئے میں کھو جانے کو دل بچا ہتا اور جب ان کے لبوں سے کہا۔جی بیٹا یکی تو بہت پہلے پہچان گئی تھی نہیں الفاظ کے پھول جھڑتے تو یوں محسوس ہوتا گویا وقت وہ طیبہ ہو جس کا ذکر ناصر کہتا ہے۔لیکن تم نے کبھی تھم گیا ہو۔میں نے آج تک اسی دلنشین پیرائے میں اس حوالے سے بات ہی نہ کی۔پھر دوسرے دن کالج گفتگو کرنے والی خاتون نہیں ویکھیں جن کا چہرہ میں ناصر کی خوب خیر لی کہ تم نے پہلے کیوں نہ بتایا کہ تم مسکرا ہٹ ، لہجہ، شخصیت العرمن تمام وجود ہیں آنٹی بیٹری کے بیٹے ہو ؟ " آپ نے کبھی پوچھا ہی نہیں اپنے نام کا مکمل عکاس ہو۔"حور جہاں بشر کا " نہایت اطمینان سے موصوف نے جواب دیا۔پینہ ہے۔کیا نام تھا کہ وجود کا ہر حصہ اس حسین نام کی عکاسی ناصر آنٹی بشری تو میری آئیڈیل ہیں۔بچپن ہی کرتا دکھائی دیتا تھا۔سے ان کی شخصیت میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔۔حوری آنٹی ، جن سے میرا کوئی خونی رشتہ جوایا ناصر صاحب اپنے کالمہ اکرانے لگے تو نہیں نے نہیں تھا لیکن کیا نام دیا جائے اس ان دیکھے رشتہ فورا کہا تم کیوں بھول رہے ہو۔میں آنٹی کی بات کر کو، اس تعلق کو جس کے بظا ہر ٹوٹ جانے کا یقین رہی ہوں۔تورا گویا ہوئے۔امی تو میری ہی ہیں نا ! اب تک نہ دل کو ہے اور نہ ان آنکھوں کو جین کے سامنے ہر وقت وہ پیارا چہرہ مسکراتا ہے۔آج ایک جیا نہیں تم مجھے سے چھوٹے ہو۔اس لئے تمہاری امی بعد میں میری آنٹی پہلے۔یہ بھی ٹھیک ہے۔اس عرصہ ہو گیا ہے اس حسین وجود کو اس مادی دنیا سے نے ہار مان لی۔ناصر دراصل اسی کالج کا سٹوڈنٹ تعلق توڑے ہوئے لیکن ہر کل نہیں احساس ہوتا ہے جس کے اسکول سیکشن میں نہیں پڑھاتی ہوں۔ہے جیسے یہ سب ہوا ہی نہ ہو۔