حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 52 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 52

مصباح زاده ۵۲ 52 ومبر ۱۹۹۳ء طوبی جس کی عمر ساڑھے نو سال ہے۔اپنی نانی اماں کو خوبیوں کی مالک تھیں۔کاش میری قلم ان فوجیوں کا دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگی کہ نانی اماں روئیں نہیں احاطہ کر سکتی۔میں امی سے بھی اچھی بیٹی ہوں گی۔اُن سے اچھی کتابیں یکن اس جگہ بشری کے شوہر داؤد احمد کا ذکر لکھوں گی اور تقریریں کروں گی۔یہ بات بھی بیان کرنی کئے بغیر نہیں رہ سکتی، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ بشریٰ بے جا نہ ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کی خوبیوں اور اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا عربی زبان میں قصیدہ بشریٰ اور ان کو اجاگر کرنے میں اس کا بھی بہت عمل دخل رہا نے اپنی تھی سی بیٹی کو حفظ کر وایا ہوا ہے۔ہے۔بشریٰ نے اگر اپنے آپ کو لجنہ اماءاللہ اور دین بشری نے تقاریر و مضامین کے علاوہ تیرہ کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا تھا تو اس کی گھر میں کتب بھی تصنیف کیں جن میں سے بعض تحقیقی مضامین غیر موجودگی کو داؤ د احمد نے بچوں کو محسوس نہیں ہونے پر بھی مشتمل ہیں۔نہ صرف انہیں تقریر وتحریر میں ید طوبی دیا۔نہ صرف یہ بلکہ لجنہ اماءاللہ کے کاموں کے سلسلہ حاصل تھا بلکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ میں اسے لے جانا اور واپس لانا اور اس کے ذمہ جو ساتھ نہایت اعلیٰ اخلاق سے بھی مزین تھیں تھیں اخلاق کام ہوتے تھے ان میں ہاتھ بٹانا بھی اس کا شیوہ تھا۔اور شیریں گفتار کا تو میں پہلے ذکر کر چکی ہوں وہ نہایت یہ بھی ایک وجہ تھی کہ بشری اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنے کام سر انجام دے گئی جن کا کہنا بظا ہر نا ممکن اور اعلیٰ درجہ کی مہمان توانہ بھی تھیں۔کھانا پکانے میں بھی خوب ماہر تھیں۔پلیٹوں کو سجانا اور نہایت عمدگی سے لگانا اور دلی جذبات کے ساتھ پیش کرنے کے ساتھ محالی نظر آتا ہے۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس باتوں اور قہقہوں سے اس کھانے کی مجلس کو سجانا بھی میں اعلی وارفع مقام عطا فرما دے اور اس کے ان کو خوب آتا تھا۔گزشتہ سال ماہ رمضان میں کراچی پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو اور انہیں صبر جمیل میں تھی وہ دن بھر لجنہ کا کام کرتیں اور پھر گھر آکر بجا لانے کی توفیق بخشے اور اپنی رضا کی راہوں پیر تیس تیس روزہ داروں کا کھانا پکا نہیں اور درسی چلنے کی سعادت عطا فرمائے۔سننے کے لئے جاتے ہوئے افطار کروانے کے لئے ساتھ لے جائیں۔رشتہ داروں اور بزرگوں کا احترام اس کے کہ دارہ کی نمایاں خصوصیت تھی۔ہر ملنے والے کو به احمدی مستورات کا فرض ہے کہ دنیا پر حصہ دینا بھی سعادت سمجھتی تھیں۔اگر اس کی کسی ثابت کر دیں کہ باوجود پردہ کی حدود کے اندر رہتے بات پر تعریف کی جاتی تو وہ ہمیشہ مزید انکساری اور ہوئے ہم کسی بھی طرح ترقی کرنے اور نیکیوں کے کرتے عاجزی کا اظہار کرتیں۔انہیں کبھی شیخی بھگا رتے یا سے محروم نہیں رہے۔بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے نہیں سنا۔اللہ اللہ کتنی ا حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع )