حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 49 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 49

مصباح ریوه ۴۹ 49 مبر ۱۹۹۳ء زندہ مذہب، فنا سے بقا کی منزل، سچا اور زندہ مذہب ہوتا دیکھ نہ سکے گی مگر اُس کی یہ روحانی اول داس ہستی کا انقلاب ، نجات یافتہ کون ہے ؟۔وہ میری کی دعاؤں اور جذبے کی طاقت سے اُس کاش زنده جماعت میں سے نہیں، کہکشاں اور تحریک جدید کے رکھے گی۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔مطالبات ، اور ابھی بہت سے زیر ترتیب تھے۔خاکسار کے پاس بیشتری جیسی صلاحیت نہیں۔یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ بینہ کی جو خواتین مگر ہمارا کوئی کام کہیں لہ کا نہیں اللہ پاک ایسے خدمت میں مصروف ہیں اُن کو دین کے لئے وقت دینے کے لئے گھر والوں کا تعاون ضروری ہوتا ہے۔بشریٰ بہت مدد گانه ضرور پیدا فرما دے گا جو اس مشن کو آگے بڑھانے میں اور پہلے سے بہتر طریق پر کام کرنے میں اپنا خون خوش نصیب تھی اُس کو اپنے شوہر اور بچوں کا مکمل شامل کرتے رہیں گے ہم نے اشاعت کے کام میں بیری تعاون حاصل تھا۔اس کا سارا گھر خدمت دین کی ایک دولت پائی۔مالا مال ہو گئے ہیں۔پیارے آقا مشین تھا۔ہم نے کو نیل" لکھی تو صاف صاف لکھوا حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع کے کہ فوٹوسٹیٹ کروا کے پہنیں لگا کہ ماؤں کو دی گئی۔دعاؤں بھرے مکتوب ہمیں نہال کر دیتے۔ہمیں کہ بچوں کو یاد کروائیں۔اس دن سے محترم داود بھائی دوسرے محترم بیمارگوں کے خطوط ملتے دعاؤں کا یہ صاحب اور بچوں نے کام کرنا شروع کیا اور ہر ممکن سرمایہ بشری ساتھ لے گئی اور فیضانِ جاریہ کی تعاون جاری رہا۔طباعت کے مراحل ، تجربہ رکھنے والوں طرح ہمیشہ اُسے احمد پہنچتا رہے گا۔ریخوبی علم ہوگا۔بڑے محنت طلب اور میر آریا ہوتے مجھے علم ہے کہ بشری سے محبت کرنے والوں ہیں۔اللہ پاک نے ان کو خدمت کی سعادت دی۔جیب دمیرا یہ مضمون نشتہ اور بکھرا بکھرا سا لگے گا۔شکریہ ادا کرت تو بڑے رسان سے کہتی " ہم یہ کام نگر ابھی دل و دماغ کو یکجا اور یکسو کرنا مشکل تمہارے لئے تو نہیں کرتے اپنے اللہ پاک کے لئے ہے۔اللہ پاک کا شکر ہے۔میں نے زندگی کا کچھ کرتے ہیں۔دعا کرو وہ قبول کرے: کتابیں ہمیں حصہ اس جیسی پاکبانہ خاتون کے ساتھ گزارا۔اپنی مشترک اولاد لگتیں۔کیونکہ اولاد کی طرح پیا یہ نہ قارئین کرام سے ہم سب کے لئے صبر جمیل کی دعا کی کیا جائے تو کتا بیں چھاپنے کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔درخواست ہے۔اللہ پاک بشری کو غریق رحمت ابتدا میں ہم اوپر گیلیری میں کھڑے ہو کہ دیکھتے کہ کوئی فرمائے۔ہماری کتاب نہ برتا ہے یا نہیں اور جب کوئی کتاب خرید رہا ہوتا تو ہم بچوں کی طرح خوش ہو نہیں۔اب جبکہ ہمارے سامنے کتابوں کے چار چار ایڈیشن آ دفتر سے خط و کتابت کرتے وقت چکے ہیں اور دنیا کی کئی جگہوں پر جارہی ہیں اور آئندہ اپنے خریداری نمبر کا حوالہ ضرور دیں۔جائیں گی اگر اللہ نے چاہا تو تو بیشترین اس اولاد کو جوان