حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 594 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 594

ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں یہ اور ہی بلا ہے۔تب میں کیا بیان کروں کہ میرے دل کی کیا حالت تھی کہ خدانخواستہ اگر لڑ کا فوت ہو گیا تو ظالم طبع لوگوں کو حق پوشی کے لئے بہت کچھ سامان ہاتھ آ جائے گا۔اسی حالت میں میں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔اور معاً کھڑا ہونے کے ساتھ ہی مجھے وہ حالت میسر آ گئی جو استجابت دعا کے لئے ایک کھلی کھلی نشانی ہے اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابھی میں شائد تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ میرے پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میں نے کشفی نظر سے دیکھا کہ لڑکا بالکل تندرست ہے۔تب وہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نے دیکھا کہ لڑکا ہوش کے ساتھ چار پائی پر بیٹھا ہے اور پانی مانگتا ہے۔اور میں چار رکعت پوری کر چکا تھا۔فی الفور اس کو پانی دیا اور بدن پر ہاتھ لگا کر دیکھا کہ تپ کا نام ونشان نہیں اور ہذیان اور بے تابی اور بے ہوشی بالکل دُور ہو چکی تھی اور لڑکے کی حالت بالکل تندرستی کی تھی۔مجھے اس خدا کی قدرت کے نظارہ نے الہی طاقتوں اور دعا قبول ہونے پر ایک تازہ ایمان بخشا۔پھر ایک مدت کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ نواب سردار محمد علی خان رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا قادیان میں سخت بیمار ہو گیا اور آثار یاس اور نومیدی کے ظاہر ہو گئے۔انہوں نے میری طرف دعا کے لئے التجا کی میں نے اپنے بیت الدعا میں جا کر اُن کے لئے دعا کی۔اور دعا کے بعد معلوم ہوا کہ گویا تقدیر مبرم ہے اور اس وقت دعا کرنا عبث ہے۔تب میں نے کہا کہ یا الہی اگر دعا قبول نہیں ہوتی تو میں شفاعت کرتا ہوں کہ میرے لئے اس کو اچھا کر دے۔یہ لفظ میرے منہ سے نکل گئے مگر بعد میں میں بہت نادم ہوا کہ ایسا میں نے کیوں کہا اور ساتھ ہی مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی۔مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِه یعنی کس کو مجال ہے کہ بغیر اذنِ الہی شفاعت کرے۔میں اس وحی کوشن کر چپ ہو گیا۔اور ابھی ایک منٹ نہیں گذرا ہوگا کہ پھر یہ وحی الہی ہوئی کہ " اِنَّكَ اَنتَ الْمَجَازِ یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔بعد میں پھر میں نے دعا پر زور دیا اور مجھے محسوس ہوا کہ اب یہ دعا خالی نہیں جائے گی۔چنانچہ اسی دن بلکہ اُسی وقت لڑکے کی حالت رو بصحت ہوگئی۔گویا وہ قبر میں سے نکلا۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ معجزات احیاء موتی حضرت عیسی علیہ السلام اس سے زیادہ نہ تھے۔میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ اس قسم کے احیائے موتی بہت سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آچکے ہیں اور ایک دفعہ بشیر احمد میرالڑکا آنکھوں کی بیماری سے بیمار ہو گیا۔اور مدت تک علاج ہوتا رہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔تب اس کی اضطراری حالت دیکھ کر میں نے جناب الہی میں دُعا کی تو یہ الہام ہوا " بَرَّقَ طِفْلِی بَشِیر“ یعنی میرے لڑکے