حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 509
1191 اور فریب دکھا سکتے ہیں۔سو اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ جو معجزات بظاہر صورت ان مکروں سے متشابہ ہیں گو وہ سچے بھی ہوں تب بھی مجوب الحقیقت ہیں اور ان کے ثبوت کے بارے میں بڑی بڑی وقتیں ہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۱ تا ۵۵۷) جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے وہ حقیقت میں اسی نبی متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ امت ہے۔اور یہ بدیہی اور ظاہر ہے کیونکہ جب کسی امر کا ظاہر ہونا کسی شخص اور کسی خاص کتاب کی متابعت سے وابستہ ہے اور بدوں متابعت کے وہ ظہور میں آہی نہیں سکتا تو بہ بداہت ثابت ہے کہ اگر چہ وہ امر بظاہر صورت کسی تابع سے ظہور میں آیا ہو لیکن در حقیقت مظہر اس امر کا نبی متبوع ہے جس کی متابعت سے ظہور اس کا مشروط ہے۔اور سر اس بات کا کہ کیوں معجزہ نبی کا دوسرے کے توسط سے ظہور پذیر ہو جاتا ہے یہ ہے کہ جب ایک شخص وہی امر بجالاتا ہے کہ جو اس کے شارع نے فرمایا ہے اور اس امر سے پر ہیز کرتا ہے کہ جو اس کے شارع نے منع کیا ہے اور اسی کتاب کا پابند رہتا ہے جو اس کے شارع نے دی ہے تو وہ اس صورت میں بالکل اپنے نفس سے محو ہو کر اپنے شارع کی ذمہ واری میں جا پڑتا ہے پس اگر شارع طبیب حاذق کی طرح ٹھیک ٹھیک صراط مستقیم کا رہنما ہے اور وہ مبارک کتاب لایا ہے جس میں شخص پیرو کی امراض روحانی کا علاج ہے اور اس کی علمی اور عملی تکمیل کے لئے پورا سامان موجود ہے اور پھر اس کے پیرو نے بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے ان تعلیمات کو بصدق دل قبول کر لیا ہے تو جو کچھ انوار و آثار بعد متابعت کامل کے مترتب ہونگے وہ حقیقت میں اس نبی متبوع کے فیوض ہیں۔سواسی جہت سے اگر ولی سے کوئی امر خارق عادت ظاہر ہو تو اس نبی متبوع کا معجزہ ہوگا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۹۳ تا ۶۰۹) میں نے بار ہا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے نشان مجھے دیئے ہیں۔اور جن کو میں نے بڑے دعویٰ کے ساتھ متعدد مرتبہ لکھا اور شائع کیا ہے۔اول عربی دانی کا نشان ہے اور یہ اس وقت سے مجھے ملا ہے جب سے کہ محمد حسین ( بٹالوی صاحب) نے یہ لکھا کہ یہ عاجز عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا۔حالانکہ ہم نے کبھی دعوی بھی نہیں کیا تھا کہ عربی کا صیغہ آتا ہے۔جولوگ عربی املاء اور انشاء میں پڑے ہیں وہ اسکی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں اور اس کی خوبیوں کا لحاظ رکھ سکتے ہیں۔بڑی مشکل آکر پڑتی ہے جب ٹھیٹھ زبان کا لفظ مناسب موقع پر نہیں ملتا۔اُس وقت خدا تعالیٰ وہ